--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

Naee Umang Talk Show

Home » » ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ کیجانب سے سیمینار کا انعقاد

ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ کیجانب سے سیمینار کا انعقاد

Written By Mehrabpur Times on Sunday, 17 March 2019 | March 17, 2019

محراب پور (نمائندہ ) ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ حلقہ محراب پور کی جانب سے غوری حال میں ایک بہت بڑے سیمینار کا انعقاد کیا گیا سیمینار میں مختلف مکاتب فکر کے افراد سمیت یونیورسٹیوں میں زیرتعلیم نوجوانوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی نظامت کے فرائض مدثر سعید نے ادا کئے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ کے ناظم اعلیٰ حضرت اقدس مفتی مولانا عبدالخالق آزاد رائے پوری نے کہا کہ جھوٹ ہر برائی کی جڑ ہے آج ہمارا معاشرہ جھوٹ پر قائم ہے عدل کا نظام تمام مسائل کا حل ہے مگر آج ہم پر نا انصافی اور ظلم کا نظام قائم ہے پاکستان بنے 70 سال سے بھی زائد کا عرصہ ہوچکا مگر ہمارے حکمران آج کہہ رہے ہیں کہ ہم پاکستان کو مدینے کی ریاست بنائیں گے مگر انہیں پتہ ہی نہیں کہ مدینے کی ریاست کا نظام تھا کیا؟ غلط نظام کا حصہ بن کر مدینے کی ریاست نہیں بن سکتی ہمارے ہاں انگریز کا متعارف کرایا ہوا نظام ہے جس ملک میں جان و مال کا تحفظ نہ ہو ہر طرف خوف کی فضا قائم ہو تو وہ ریاست مدینہ نہیں بلکہ ابو جہل کی ریاست ہے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے شیخ الحدیث و التفسیر ممتاز عالم دین حضرت مولانا عبدالمتین نعمانی نے کہا کہ آج مسلمان قیادت صحیح نہ ہونے کی وجہ سے ناکام ہوا ہے ہم دنیا کے دوسرے ممالک میں تو اسلامی نظام کے نفاذ کی سوچ رکھتے ہیں مگر پاکستان میں 99 فیصد مسلمان ہونے کے باوجود یہاں نافذ نہیں کر رہے پاکستان میں ہم نے نا اہل اور بد عنوان قیادت کو اپنے اوپر مسلط کیا ہوا ہے پیارے نبی ﷺ نے چار اصولوں پر جماعت اور اہل قیادت پیدا کی تھی تربیت کا ہی نتیجہ تھا کہ صحابہ کرام نے ہجرت کے بعد بہترین سسٹم کی وجہ سے مدینہ میں ایک مثالی حکومت قائم کی سیمینار سے شیخ الحدیث حضرت مولانا مفتی مختار مسعود ودیگر نے بھی خطاب کیابعدازاں حضرت اقدس مفتی مولانا عبدالخالق آزاد رائے پوری نے صحافیوں کے پینل منور حسین منور، شبیر شاکر انبالوی، غلام نبی مغل، علم الدین علیم، ندیم سرویا کوانکے پوچھے گئے مختلف سوالات کے جوابات دیئے۔ 

1 comments: