--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

Naee Umang Talk Show

Home » » فوک سنگر جلال چانڈیو کو چاہنے والوں سے بچھڑے سولہ برس بیت گئے

فوک سنگر جلال چانڈیو کو چاہنے والوں سے بچھڑے سولہ برس بیت گئے

Written By Mehrabpur Times on Tuesday, 9 January 2018 | January 09, 2018

محراب پور(رپورٹ، منور حسین منور)فوک سنگر جلال چانڈیو کو چاہنے والوں سے بچھڑے16 برس بیت گئے،آج10 جنوری انکی 17 ویں برسی منائی جارہی ہے، محکمہ ثقافت نے مخصوص انداز کے یگانہ بادشاہ جلال چانڈیو کو بھلا دیاحکومتی سرپرستی میں کوئی تقریب نہیں رکھی گئی جلال چانڈیو نے پھل کے نواحی علاقے میں حاجی فیض محمدچانڈیو کے گھر جنم لیااسے بچپن سے ہی موسیقی سے لگاؤ تھا لیکن والدین اسے کوئی ہنر سکھانا چاہتے تھے ٹیلرنگ اور دیگر کام سکھانے کیلئے جلال کو مختلف شہروں میں بھی بھیجا مگر جلال گائیکی کی رغبت سے دور نہ ہوپایا تو مجبوراً والدین کو بھی اس کی ضد کے آگے گھٹنے ٹیکنے پڑے اور اسے گائیکی کی تربیت کیلئے فقیر مھر علی کے پاس چھوڑا جہاں پر جلال کے فن کو نکھار ملا اور وہ اپنے استاد کے ہمراہ مختلف پروگرامز میں جاکر اپنے فن کا مظاہرہ کرتا رہا1973 میں استاد سے باقاعدہ اجازت لیکر اپنا ایک الگ اسلوب اپنایا اور یکتاری اور چپڑی کے ماہر کے طور پر ابھر کرسامنے آئے اور تعلیم یافتہ نہ ہونے کے باوجود مخصوص انداز گائیکی کے باعث سندھی گانوں کے بادشاہ کے طور پر مشہور ہوئے انہوں نے سندھی فوک گائیکی کو اس وقت پرموٹ کیا جب میڈیا بھی اتنا عام نہ تھاجلال چانڈیو نے اپنی زندگی میں ایک ہزار سے زائد آڈیو کیسٹس ریلیز کیں اور لگ بھگ 10ہزار سے زائد گانے آئے مختلف زبانوں میں بھی قسمت آزمائی کی یہ روحانی طور پر شاہ پور جہانیاں کے مہدی شاہ کے روحانی شاگرد تھے ان میں گائیکی کے علاوہ سخاوت کی خوبی بھی نمایاں تھی انہیں 1999 میں سندھ حکومت کے محکمہ ثقافت کی جانب سے لطیف ایوارڈ سمیت متعدد ملکی و غیر ملکی ایوارڈز سے نوازا گیا جلال چانڈیو گردوں کی ناکامی کے باعث 10 جنوری 2001 کواپنے لاکھوں چاہنے والوں کو آبدیدہ کرکے اپنے خالق حقیقی سے جاملے جلال چاندیوکیے بیٹوں قلندر جلال، دلبر جلال، معشوق جلال اور نادر جلال میں سے واحد دلبر جلال ہی ہیں جو اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے مخصوص انداز گائیگی کوجاری رکھے ہوئے ہیں۔ 

0 comments:

Post a Comment