--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
Home » » ہو جمالو (نیم مزاحیہ کالم) شبیر شاکر انبالوی

ہو جمالو (نیم مزاحیہ کالم) شبیر شاکر انبالوی

Written By Munawar Hussain on Monday, 14 August 2017 | August 14, 2017


اخبار کی دسویں سالگرہ تقریب میں کیک کاٹتے وقت جب پھونک مار کر موم بتیوں کو بجھایا جارہا تھا تو مجھے ایک دانشور کی بات یاد آئی کہ''پھونک سے ہم دو متضاد کام بھی لیتے ہیں جلتی موم بتی کو پھونک مار کر بجھاتے ہیں اور چولہے میں بجھی آگ کو پھونک مار کر جلاتے ہیں " محراب پور ٹائمز کے صحافتی سفر میں ہمارے ساتھ بھی کچھ اسی طرح سے ہوا ہمارے دوستوں نے ایک وار سے دو مختلف کام کئے ہمیں بھی پھونکیں مارتے رہے اور مخالفین کو بھی ،مقامی اخبار محراب پور ٹائمز سمیت موبائل نیوز سروس کو بند کرانے کی بہت کوششیں کیں مگر سب ناکام البتہ ایک موبائل نیوز سروس کے بجائے ہماری کئی نیوز سروس کام کرنے لگیں پرنٹ میڈیا کیساتھ ساتھ قدرت نے ہمارے گروپ کو نائنٹی ٹو نیوز، سیون نیوز، 24نیوز،نیوز ون،جاگ نیوز سمیت اور بھی بہت سے چینلوں سے نوازا ہماری مخالفت کی وجہ کوئی ذاتی دشمنی نہیں بلکہ سرعام اور دیدہ دلیری سے بااثر افراد کیخلاف کھل کر لکھنا ہے تو بعض افراد کو ہمارا یہ عمل ناگوار گزرا اور اس بناء پر منفی پروپیگنڈے سمیت ہمیں بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ایسے ایسے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کئے کہ خدا کی پناہ انسانیت کانپ کر رہ جائے ایسے ہی حالات میں تو معروف کالم نویس حسن نثار نے کہا تھا کہ حکومت نے مردم شماری کرائی یقیناًآبادی بیس کروڑ سے بھی زائد نکل آئے گی حسن نثار نے کہا میری حکومت سے التجا ہے اگلے سال انسان شماری کرائے اگر پورے ملک میں سو ڈیڑھ سوسے زیادہ انسان نکل آئیں تو میں صحافت چھوڑدوں گا سالگرہ تقریب میں کیک کی موم بتی جلاتے وقت ایک صحافی دوست نے کہا کہ اس موم بتی کو تو ہم ایک طرف سے آگ لگاتے ہیں مگر آج کاانسان تو وہ موم بتی ہے جسے دونوں طرف سے جلایا جارہا ہے جس کوجہاں موقع مل رہا ہے وہ دوسرے کو تکلیف دے رہا ہے مسلمان ہونے کی جو ہلکی سے ہلکی نشانی پیارے نبی حضرت محمد ﷺ نے بتائی وہ یہ کہ " مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرا مسلمان بھائی محفوظ رہے " مگر آج اردگرد نظر دوڑائیں تو ہماری زبان اور ہمارے ہاتھ زیادہ تر دوسروں کو تکلیف دینے کیلئے استعمال ہورہے ہیں حکمرانوں کے ہاتھ عوام کو ریلیف دیتے وقت کہیں نظر نہیں آتے مگر تکلیف دینے کیلئے ایک ایک لیڈر کے کئی کئی ہاتھ نکل آتے ہیں سیاست جیسا مقدس کام جسے انبیاء نے سرانجام دیا آج زندگی کے اس اہم شعبے کو پاکستان میں کن جھوٹوں، مکاروں اور سستے لوگوں کے سپرد کردیا ہے ہمارے ہاں نیوز چینلز، اخبارات اور سیاسی بحثوں میں عام رواج یہ ہے کہ ہم ہرنقصان کی تمام تر ذمہ داری امریکہ، اسرائیل، انڈیا یا کسی اور خفیہ غیر ملکی ہاتھ پر ڈال دی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ غیر مسلم ممالک ہمارے ملک و قوم کو تباہی کے دہانے پر پہنچانا چاہتے ہیں کچھ حد تک تو یہ باتیں درست ہیں مگر زیادہ تر ہماری تباہی کے ذمے دار وہ انسان دشمن قیادتیں ہیں جن پر ہم اپنی جان نچھاور کرنے کیلئے ہر وقت تیار رہتے ہیں جنہیں ہم اچھا سمجھتے ہیں یہ ان بروں سے بھی بدتر ہیں اگر غیر بدخواہ ہیں تو خیر خواہ یہ بھی نہیں اگر غیروں نے ہمارا ستیاناس کیا ہے تو انہوں نے سوا ستیاناس ہمیں اس پسماندگی اور بدحالی تک پہنچانے میں ان لیڈروں کا ہی ہاتھ ہے جن کے نام پر ہم کٹ مرنے کیلئے تیار رہتے ہیں اور ہر الیکشن میں ان کے سامنے ہوجمالو کی دھن پر دھمالیں ڈالتے نہیں تھکتے اس سے بڑھ کر زیادتی کی بات یہ ہے کہ یہ حکمران میڈیا کے ذریعے باور کراتے رہتے ہیں کہ ملک کی تباہی کے پیچھے غیر ملکی ہاتھ ہے اسلام دشمن قوتیں ہمیں ترقی نہیں کرنے دے رہے اور عوام بھی انکے پروپیگنڈے میں آکر یہی کہنے لگ جاتی ہے اگر ہم ٹھنڈے دماغ سے سوچیں تو بہت کچھ واضح ہوجائے گا ٹھیک ہے دہشت گردی اور تخریب کاری میں غیر ملکی عناصر ملوث ہو سکتے ہیں مگر ہمارے سرکاری اداروں میں جوعوام کو ذلیل اور بے عزت کیا جارہا ہے بغیر رشوت لیے انکے جائز کام بھی نہیں کئے جاتے بلکے دھکے دے کر انہیں آفیسوں سے باہر کردیا جاتا ہے بجلی کے یونٹ کس کے گھر چلیں اور انکا بل کمزور اور غریب لوگوں کے گھر بھیج دیں، سرکاری آفیسوں میں عوام کی تذلیل کرنے میں کونسا غیر ملکی ہاتھ ہے ،تھانوں اور پولیس چوکیوں میں بے قصور افراد کو برہنہ کرکے تشدد کیا جاتا ہے، بے بس اور لاچار لوگوں کی ناک میں نکیل ڈال کر جانوروں کی طرح باندھ دیا جاتا ہے بجلی کی شارٹ تک لگائی جاتی ہے مجرموں کو کرسی پراور فریادی کو لاکپ میں بند کردیا جاتا ہے بھلا تھانوں میں دن رات جونا انصافیاں عوام کیساتھ کی جارہی ہے اس میں کونسی غیر ملکی ایجنسیاں ملوث ہیں مانا کہ مہنگائی میں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کا ہاتھ ہوسکتا ہے مگر عوام کو قدم قدم پر رسوا کیا جاتا ہے انکی عزت نفس مجروح کی جارہی ہے یہ تو آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک نہیں کرتی یہ سب تو ہمارے اپنے کلمہ پڑھنے والے، عوام کے ٹیکسوں سے تنخواہ لینے والے پاکستانی حاکم کر رہے ہیں عوام کی فلاح کیلئے ملنے والی غیر ملکی امداد کو اپنے اکاؤنٹوں میں جمع کروانے والوں میں تو کوئی بھی کافر نہیں بلکہ یہ تو تمام کے تمام وہ ہیں جنہیں ہم دیوتاؤں کی طرح پوجتے ہیں ملکی اداروں کو کوڑیوں کے دام بیچنے والے اپنے ہی تو ہیں ریلوے ، بیراج، نہریں، آمدورفت کی سڑکیں تباہی کے دہانے پر پہنچانے میں امریکہ اور یورپ کاہاتھ کہیں دکھائی نہیں دے رہا بلکہ انکے بڑے تو یہ چزیں آج سے سوسال پہلے بنا کر گئے تھے سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کو دوا میسر نہیں ، مسافر ٹکٹ لیکر بھی ٹرین میں جگہ نہ پاسکیں، بینکوں سے کاٹی جانی والی زکوٰۃ غریبوں اور مستحق افراد تک نہیں پہنچتی ان تمام کاموں میں غیر ملکی ہاتھ تو دور کی بات آپ کو کہیں انگلی بھی نظر نہیں آئے گی پاکستانی خلق خدا کو لاچار سمجھ کر موقع بے موقع اذیتوں سے دوچار کرنے والے اپنے ہی تو ہیں عوام کی راہ میں مشکلات کھڑی کرنے والے انہیں بنیادی حقوق اور ضرورتوں سے محروم کرنے والے غیر کب ہیں پُر کشش اور قابل قبول نعروں کیساتھ ہماری گردنوں پر سوار سارے اپنے ہیں آج کی بے بس عوام پیٹرول کے بجائے اپنا خون جلا رہی ہے اپنے آپ کو پیچ کر بجلی کا بل ادا کررہی ہے بیمار ہو جانے پر ڈاکٹر اور میڈیکل اسٹور پر جانے کیلئے سومرتبہ سوچنا، بچوں کو بلک بلک کر اور بوڑھوں کو کھانس کھانس کر مرنے دینا یہ جانوروں سے بھی بدتر زندگی گزارنے پر مجبور کرنے والے کوئی رہزن نہیں کوئی غیرنہیں سب کے سب ہمارے ہر دلعزیز رہنما ہیں اللہ اور اسکے رسول ﷺ پر آخرت میں مرنے کے بعد زندہ ہونے پر اور ہر کام کا حساب دینے پر یقین رکھنے والے حاکموں نے ہی عوام کا حق غصب کیا ہے فرعون کے لہجے میں بات کرنے والے شاہانہ تیور، حقارانہ نگاہیں،غیر مساویانہ برتاؤ کرنے والے وہی تو ہیں جن کے جلسے جلوسوں میں ہم ناچتے نہیں تھکتے پسی اور کچلی ہوئی عوام کی ترجمانی کرنے والے " راشن کی جگہ بھاشن" دینے والوں میں کونسا غیر ملکی ہے سب کے سب اس دھرتی ماں کی کوک سے جنم لینے والے ہی تو ہیں ملک کے ذخیرہ اندوزوں، منافع خورتاجروں اور صنعت کاروں نے جیسی تباہی ملکر مچائی ہے وہ ناقابل فراموش ہے آج ملک جس انتہا پر پہنچ چکا ہے اسکے اصل ذمے دار ڈرامے باز سیاستدان ہی ہیں گرمی بخاراور دودھ میں پانی چیک کرنے کے سائنسی آلے موجود ہیں جنہیں لگا کر چیک کرلیا جاتا ہے مگر سیاستدانوں کو چیک کرنے کا کوئی آلہ نہیں جسے لگا کر دیکھ لیا جائے کہ یہ ملک و قوم سے سچے ہیں کہ نہیں تقریروں میں تو یہ کہتے ہیں کہ ہم ملک اور قوم کیلئے اپنے خون کا آخری قطرہ تک بہا دیں گے مگر یہ انکے دعوے ہیں حقیقت میں ایسا نہیں ہے کسی سیانے کا قول ہے" مرغے کی رات 2 بجے آذان دینے سے صبح نہیں ہوجاتی" ۔ 

0 comments:

Post a Comment