--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

Naee Umang Talk Show

Home » » متبادل راستہ (نیم مزاحیہ کالم ) شبیر شاکر انبالوی

متبادل راستہ (نیم مزاحیہ کالم ) شبیر شاکر انبالوی

Written By MT News on Monday, 31 July 2017 | July 31, 2017

ہمارے ہاں عجیب وغریب خرابی یہ ہے کہ ہم اس ظلم کے نظام کے خلاف واویلابھی کرتے ہیں سرکاری محکموں میں ہونے والی بدعنوانیوں کے خلاف احتجاج بھی کریں گے، اپنے ساتھ ہونے والے نا رواسلوک پر رونا بھی روئیں گے ،سسٹم کی ناقص کارکردگی پر تنقید بھی کریں گے مگر پھر اپنا مسیحا ان ہی لوگوں کو سمجھیں گے جن کے سبب یہ تمام مسائل پیدا ہوئے ہیں ان ہی پر اعتبار اور انحصار کریں گے جو مسیحا نہیں قصائی ہیں نامور دانشورمولاناابو الکلام آزاد کا قول ہے کہ "جب منزل سے کوئی غرض نہیں اور نہ ہی کہیں جانا ہے تو پھر ہر آنے جانے والے سے راستہ پوچھنے کاکیا فائدہ "مولانا کی بات میں وزن ہے جب ہم نے موت کے سوداگروں کو ہی اپنی جان ومال کا محافظ بنا کر رکھنا ہے او رجنہوں نے بیمار کیا انہی ڈاکٹروں سے دوا لینی ہے تو مرض بڑھنے پر رونا کیسا ،اگر مکمل صحت یابی چاھتے ہیں تو موجودہ ڈاکٹرتبدیل کرنے ہونگے اور ان مسیحاؤں سے بھی بچنا ہو گا جو تبدیلی کو ایک نعرے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں تبدیلی پر صحا فی دوست ندیم سرویا نے لطیفہ سنایا کہ تبدیلی کا خواہش مند ایک شخص اپنی بیوی سے کہنے لگا میں پاکستان کا نظام بدل کر دم لوں گا یہ سن کر بیوی بولی پہلے شلوار تو بد لو کل سے میری شلوار ڈال کر گھوم رہے ہو ،ہمارے یہ تبدیلی کے خواہش مند سیاستدان اور دانشور پاکستان کے موجودہ سیای منظر اور ملک میں رائج اس فرسودہ نظام کے خلاف نفرت کا آتش فشاں تو ہر روز بھڑکاتے رہتے ہیں مگر تبدیلی اور مسائل کا کوئی واضح حل ابھی تک پیش نہ کر سکے ،پاکستان میں اس وقت جو مسائل پروان چڑھ رہے ہیں ان کی نشاندہی تو سب کرتے ہیں مگر علاج کوئی تجویز نہیں کر رہا جیسے ایک ٹرک ڈرائیور جمعہ کی نماز کے لیے مسجد گیا تو مولانا دوذخ،جنت اور قیامت کے موضوع پر تقریر کرتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ جنت میں داخل ہونے کے لیے پل صراط سے گزرنا پڑے گا ،پل صراط مکھن سے زیادہ ملائم ،تلوار سے زیادہ تیز اور بال سے زیادہ باریک ہو گا یہ سن کر ٹرک ڈرائیور کھڑا ہوا اور کہنے لگا مولوی صاحب ہم سمجھ گیا کہ راستہ صحیح نہیں کوئی اور متبادل راستہ بتاؤ،اسی طرح ہمارے سیاسی رہنمابھی اس نظام میں پیش آنے والی تکالیف کی نشاندہی تو کریں گے غصہ اورنفرت بھی دلوائیں گے مگر اسے جڑ سے اکھاڑ پھینکنے اور ملیا میٹ کرنے کا طریقہ نہیں دیں گے اگر کچھ عرصہ پہلے مذہبی اسکالرنے اسلام آباد میں دھرنوں کے درمیان کوئی حل دیا بھی تو وہ اتنا پیچیدہ اور مشکل جو قابل عمل ہی نہیں تھا جیسے ایک شکاری سے کسی نے ہرن پکڑنے کا طریقہ پوچھا تو شکاری بولا ہرن پکڑنا کونسا مشکل کام ہے آسان طریقہ یہ ہے کہ جنگل میں جا کر چپکے سے ہرن کے پاس جاؤ اور پیچھے سے جلتی ہوئی موم بتی اسکے سر پر رکھ دو جب موم بتی جلے گی تو پگھلا ہوا موم ہرن کی آنکھوں میں چلا جائے گا اور اسے نظر نہیں آئے گا تو تم فوراً اسے پکڑ لینا یہ جو نظام کی تبدیلی کے نہایت ہی مشکل اور نامکمن طریقے بتا رہے ہیں دراصل یہ اس نظام کو تبدیل ہی نہیں کرنا چاہتے کیونکہ ان میں سے ایک بھی ایسا نہیں جو اس کرپٹ نظام کی بہتی گنگا سے فائدے نہ اٹھا رہا ہو اس سسٹم ہی کی وجہ سے یہ ککھ پتی سے لکھ پتی بن گئے اس نظام کے ٹوٹنے کا سب سے زیادہ نقصان انہی لیڈروں کو ہوگاتو یہ بھلا کیوں اس نظام کو تبدیل کرنے لگے جہاں غریب ہاریوں کا لیڈر 80 ہزار ایکڑ زمین کا مالک جاگیر دار ہو لا تعداد کارخانے رکھنے والا صنعت کار پسے ہوئے مزدور طبقے کی رہنمائی کرے ملک کے کروڑوں کمزور افراد کی نمائندگی انتہائی طاقت ور افراد کریں تو تبدیلی کیسے آئے گی یہ بات تو انتہائی کم عقل گدھے کو بھی سمجھ میں آجائے جو ہم 18 کڑور عوام کو تقریباً 67 سال سے سمجھ نہیں آرہی اس کی مثال کچھ اس طرح سے دی جا سکتی ہے کہ دونوں آنکھوں کی روشنی سے محروم ایک اندھے شخص کو اٹھتے بیٹھتے اس کی بیوی کہتی رہتی کہ حافظ جی میں بہت خوبصورت ہوں مجھ سے زیادہ حسین پورے گاؤں میں کوئی نہیں بیوی کی روز روز کی اس بکوس سے حافظ جی ایک دن تنگ ہو کر بولا کہ میں اندھا ضرور ہوں مگر بے وقوف نہیں تو اگر اتنی حسین ہوتی تو تیرے والدین مجھ جیسے مانگنے والے اندھے سے کیوں شادی کرتے دونوں آنکھوں کی بنائی سے محروم حافظ جی کی طرح ہمیں بھی سوچنا چاہیے کہ جن لوگوں کی ذریعہ آمدنی یہ کرپٹ نظام ہی ہے تو وہ اسے توڑ کر اپنے پیٹ پر لات کیوں مار یں گے اس فرسودہ نظام کی وجہ سے جو وزیرِ اعظم ، صدر اور دیگر بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہو کر مراعات لے رہے ہیں یہ لوگ نظام عدل میں کونسلر بھی منتخب نہ ہو سکیں ،یہ جو سیکریٹری سطح کی پو سٹوں پر براجمان ہیں یقین جانواگر میرٹ کا نظام ہو تو یہ چپڑاسی کی نوکری بھی حاصل نہ کر سکیں ہمارے ان نو سر باز حاکموں میں ایک بیماری یہ بھی ہے کہ سادہ لوح عوام کو سبز باغ دکھا کر اکثر گمراہ کرتے رہتے ہیں ملک کے اکثر علاقوں میں پینے کا صاف پانی تو پہنچا نہیں سکے پیسوں سے بھی خالص دودھ اور ایک نمبر ادویات خرید نہ سکنے والی عوام کے چھوٹے چھوٹے مسائل تک حل نہ کر سکے مگر باتیں بڑی بڑی کریں گے کہ کشمیرلے کے رہیں گے ،انشاء اللہ بہت جلد دہلی کے لال قلعے اور امریکہ کے وائیٹ ہاؤس پر پاکستان کا ہلالی پرچم جلد لہرائیں گے ،بھوک اور غربت سے خودکشی کرنے والوں کی قبروں میں اضافہ کر کے اعلان کریں گے کہ ہماری معشیت مضبوط ہو رہی ہے جلد ایشیائی ٹائیگر بن کے رہیں گے سامراجی حکمرانوں کا یہ وطیرہ رہا ہے کہ یہ پیسے ڈبل کر کے دینے والے ٹھگوں کی طرح بڑا مفاد دِیکھا کر عوام کو چھوٹے فائدوں سے بھی محروم کر دیتے ہیں جیسے تبلیغ والوں کے کہنے پر نماز شروع کرنے والے دو دیہاتی نماز سے فارغ ہونے کے بعد مسجد سے نکلتے ہوئے باتیں کر رہے تھے ایک کہنے لگا شکرہے نماز جماعت کے ساتھ مل گئی دوسرا بولا اگر وضو کے چکر میں پڑ جاتے تو پھر جماعت نکل جاتی جیسے ان دیہاتیوں نے باجماعت نماز کی ادائیگی کے لیے وضو ہی نہیں کیا ویسے ہی ہم بظاہر بہت بڑے فائدے کے لیے ان لیڈروں کی لچھے دار باتوں میں آکر اپنا بہت سا نقصان کروا بیٹھتے ہیں حقیقی مسائل حل کرنے کے بجائے غیر ضروری نمودو نمائش کے کام کرنے والے ان رہنماؤں کے بارے میں نامور کام نویس حسن نثار کہا کرتے ہیں کہ ہمارے رہنما تو ان لوگوں میں سے ہیں جو اپنی ماں کو گِروی رکھ کر بیوی خرید لائیں اور بیوی بھی اتنی بدصورت کہ ا سے دوزخ کی حور کہا جائے تو غلط نہ ہو گا۔

1 comments: