--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
Home » » سفرنامہ (نیم مزاحیہ کالم) شبیر شاکر انبالوی

سفرنامہ (نیم مزاحیہ کالم) شبیر شاکر انبالوی

Written By MT News Channel on Monday, 31 July 2017 | July 31, 2017

ایک سکھ ہوٹل میں بیٹھا کھانا کھا رہا تھا بیرے نے آکر بتایا کرتار سنگھ تیرے لڑکے امر سنگھ کا ایکسیڈنٹ ہوگیا اور اسے ہسپتال لے گئے سردار جی نے وہیں کھانا چھوڑا، ٹیکسی پکڑی اور ڈرائیور سے ہسپتال جانے کو کہا ٹیکسی میں بیٹھ کر سکھ کو خیال آیا کہ میرے لڑکے کا نام امر سنگھ نہیں پھر کہنے لگا میراتو کوئی لڑکا ہی نہیں پھر خیال آیا میری تو اب تک شادی ہی نہیں ہوئی آخر میں کہنے لگا میر انام کرتار سنگھ کب ہے ؟ خوامخواہ روٹی چھوڑ کر ہسپتال کیلئے نکل کھڑا ہوا یہی حال کچھ ہمارے حاکموں کا بھی ہے کھربوں روپوؤں سے میگا پروجیکٹ شروع کر دیتے ہیں اور بعد میں سردار جی کی طرح سوچتے ہیں کہ پہلے صوبوں کو راضی کرلو بعد میں اس منصوبے کو آگے بڑھائیں گے کالا باغ ڈیم کی تعمیرات کے آغاز کے بعد منصوبے کا اختتام سمیت بہت سے ایسے کام ہیں جن میں قوم کا پیسہ پانی کی طرح بہایا گیا اور انکا رزلٹ بھی کچھ نہیں نکلا ملک کا بجٹ اربوں کھربوں روپئے ضائع کرنے کے بعد شرمندہ بھی نہیں ہوتے اور نہ ہی کسی قسم کی پشیمانی انکے چہروں سے عیاں ہوتی ہیں بلکہ ایک چھوٹا سابیان دے کر اپنی جان چھڑا لیتے ہیں جیسے ایک گاؤں کا چوہدری اچھی نسل کے گھوڑے پر سوار سفر پر تھا راستے میں کہیں رات گزارنے کا سوچا تو اسے کچھ فاصلے پر مراثیوں کے گھر نظر آئے ایک گھر کا دروازہ کھٹکٹایا تو ایک مراثی نکلا چوہدری کو دیکھ کر بڑا خوش ہوا اور آنے کا مقصد پوچھا چوہدری نے کہا میں اپنے دوست سے ملنے جا رہا تھا مگر مجھے رات پڑگئی راستہ ٹھیک نہیں چوری کی وارداتیں اکثر ہوتی رہتی ہیں میرے پاس گھوڑا بھی کسی دوست کا ہے یہ نسل کافی نایاب اور مہنگی ہے کہیں یہ گھوڑا رات کو کوئی چھین نہ لے اس لئے میں نے سوچا رات تمہارے پاس گزار کر صبح نکل جاؤں گا یہ سن کر مراثیوں نے چوہدری کے سونے کا انتظام کیا اور گھوڑا باہر باندھ دیا سونے سے پہلے پھر چوہدری نے مراثیوں کو بلا کر کہا کہ یہ گھوڑا کافی مہنگا ہے اور اس نسل کا گھوڑا پورے ملک میں نہیں اور کچھ لوگ اسے چوری کرنے کے چکر میں ہیں لہٰذا ہوشیاری کرنا یہ سن کر ایک مراثی بولا چوہدری صاحب ہمارے ہوتے ہوئے کوئی آپکا گھوڑا چوری کر کے لے جائے تو ہم پر لعنت بھیجنا لہٰذا چوہدری بے فکر ہو کر سوگیااور مراثی گھوڑے کا پہرہ دینے لگے آدھی رات کے بعد نیند نے زور پکڑا اور ساتوں بھائی سوگئے گھوڑے کیلئے جو چور پیچھے لگا ہوا تھا اس نے موقعہ دیکھ کر گھوڑا کھولا اور لے کر فرار ہو گیا صبح جو مراثیوں کی آنکھ کھلی تو دیکھا گھوڑا نہیں ہے ادھر اُدھر دیکھا نہ ملا فوراً جاکر چوہدری کو جگایا اور کہا چوہدری صاحب آپکا گھوڑا کوئی چور لے گیا لہٰذا آپ جلدی سے ہم پر لعنت بھیجیں کیونکہ ہم نے اپنے اپنے کام پر بھی جانا ہے ہمارے حکمران بھی کھربوں روپئے کے پروجیکٹ ادھورے چھوڑ کر ان مراثیوں کی طرح چھوٹا سا بیان دے دیتے ہیں کام اس لئے بند ہو گیا کہ اس پر تمام صوبے متفق نہیں وغیرہ وغیرہ، ،حکمرانوں میں سے کوئی بندہ اپنی سرکار کی غلطیوں اور کوتاہیوں کی نشاندہی نہیں کرتا اس پورے ملک میں ایک طوفان برپا ہے کبھی گیس ، کبھی پیٹرول اور کبھی بجلی کی قیمت میں اضافے کا بم گرا دیا جاتا ہے عوام کے مصائب کم ہونے کے بجائے بڑھتے جار ہے ہیں دوسری طرف حاکم پورے زور سے کہہ رہے ہیں کہ عوامی حکومت ہے یہ جمہوری حکومت ہے مشہور مزاح نگار مشتاق احمد یوسفی لکھتے ہیں کہ ہمارے آفیس میں ایک عورت کام کرتی تھی اس کی بات کا کوئی برا نہیں مانتا تھا س کا دیر سے آنا اور غلطی کو آفیسر بھی درگزرکردیا کرتاتھا اس کی 3وجوہات تھیں پہلی یہ کہ وہ عورت تھی دوسری اور تیسری وجہ بھی یہی کہ وہ عورت تھی حکمران جماعت کا ایک وزیر کہہ رہا تھا کہ ہماری حکومت کو برداشت کیا جائے ،صحافی نے کہا کہ کیوں ؟ تو وزیر نے کہااسکی کئی وجوہات ہیں ایک تو یہ کہ یہ جمہوری حکومت ہے دوسری وجہ بھی یہی ہے کہ جمہوری حکومت ہے اس لئے اسے اپنی آئینی مدت پوری کرنے کا حق دیا جائے، بیشک یہ ایک جمہوری حکومت ہے جمہوریت کی بات تو سب کرتے ہیں لیکن یہ نہیں دیکھتے کہ ہم اپنے طور طریقوں سے اسے نقصان پہنچا رہے ہیں جمہوریت محض انتخابات اور انکے ذریعے اقتدار میں آنے کا نام نہیں اقتدار میں آنے کے بعد انکی روش جمہوری نہیں رہتی ان کی سوچ عدم برداشت، تعصب اور اصول شکنی سے آلودہ ہو کررہ جاتی ہے جومعاشرتی جبر کو فروغ دینے کا باعث بنتی ہے حکمرانوں کی مفاد پرستی اور غلط طرز حکمرانی کے اثرات عوام پر بھی پڑرہے ہیں ان میں رسہ کشی اور مقابلے کا رجحان بڑھتا جارہا ہے پچھلے دنوں ایک خبر نظر سے گزری کہ ایک شخص نے اپنے مخالف پڑوسی کو نیچا دکھانے کیلئے اپنا گردہ بیچ کر اپنے گھر کے باہر والے دروازے پر سنگ مرمر کی ٹائلیں لگوائیں اس غلط نظام کی وجہ سے عوام میں بھی قوت برادشت کی کمی ہوتی جارہی ہے جیسے پاکستانی ادیب وشاعر اور صحافی بیرون ملک جاتے ہیں تو وہ پاکستان میں آکر اپنا سفرنامہ لکھتے ہیں جب غیر ملکی پاکستان آتے ہیں تو وہ بھی اپنے ملک جا کرپاکستان کے بارے میں سفرنامہ لکھتے ہیں ایسے ہی ایک غیر ملکی سیاح نے سفرنامہ لکھا جس میں اس نے کچھ باتیں بڑی دلچسپ لکھیں اس نے لکھا ایک مرتبہ میں کار میں سوار تھا اور بند ریلوے پھاٹک کھلنے کا انتظار کررہا تھا تو میں نے دیکھا سائیکل و موٹرسائیکل سوار اور پیدل چلنے والے پھاٹک بند ہونے کے باوجود نکل رہے تھے وہ پھاٹک کھلنے کے انتظارمیں اپنا ٹائم ضائع نہیں کرناچاہتے تھے کئی نوجوان تو گاڑی نزدیک آنے کے باوجود لائن کراس کرتے رہے ایک دو تو مرتے مرتے بچے یہ دیکھ کر میں نے سوچا کہ پاکستان پر الزام ہے کہ یہ لوگ وقت کی بچت نہیں کرتے یہ تو ٹائم کی بچت کیلئے اپنی جان کی بھی پرواہ نہیں کرتے پھاٹک کھلنے کے بعد جب میں دوسری طرف آیا تو یہ دیکھ کر بہت حیران ہوا کہ وہ افراد جنہوں نے ٹائم بچانے کیلئے اپنی جان پر کھیل کر ریلوے لائن عبور کی وہ تمام کھڑے ایک بکرے اور بندر والے کا تماشہ دیکھ رہے تھے پاکستانیوں پر ایک غلط الزام یہ بھی ہے کہ قائد اعظم سے اتنی محبت و عقیدت نہیں کرتے جتناکرنے کا حق ہے میرا مشاہدہ تو یہ ہے کہ جتنی محبت بانی پاکستان سے یہ لوگ کرتے ہیں کم دیکھنے میں آئی قائد اعظم کی تصویر والے نوٹوں کو دل کے نزدیک والی جیبوں میں ڈال کر رکھتے ہیں اور اسکی تصویر والے نوٹوں کیلئے خون کو پانی کی طرح بہانے سے بھی دریغ نہیں کرتے ان میں ایک اور مزیدار بات جو دیکھنے میں آئی وہ یہ کہ شیطان ابلیس کو لوگ اپنا سب سے بڑا دشمن کہتے ہیں اور اصول ہے کہ دشمن کی بات کوئی نہیں مانتامگر یہاں اکثریت اپنے دشمن ابلیس کی باتوں پر عمل پیرا ہیں پاکستانیوں کی ایک حیران کن بات یہ بھی دیکھنے کو ملی کہ جن ایجادات یعنی موبائل فون، بجلی، کمپیوٹر، جہاز، بلب، پنکھا، کار ، موٹر سائیکل، ٹیلی وژن، ریل گاڑی، لاؤڈ اسپیکر سے فائدہ اٹھارہے ہیں ان چیزوں کو ایجاد کرنے والے انگریزوں کو اٹھتے بیٹھتے گالیاں دیتے رہتے ہیں ا س غیر ملکی سیاح نے جہاں ہماری اس طرح کی اور بھی بہت سی طنزومزاح کے انداز میں غلطیوں کی نشاندہی کی وہاں اس نے پاکستانیوں کی خوبی پر بھی قلم اٹھایا اس نے ایک جگہ لکھا انتہائی غربت اور افلاس کے باوجود انکی سماجی سوچ اور دوسروں کیلئے قربانی اور ایثار کا جذبہ جو میں نے یہاں دیکھا وہ دنیا میں مجھے کم دیکھنے کو ملا سیاح نے مزید لکھا یہ انتہائی محنتی اور ذہین قوم ہے مگر انکے حکمرانوں کی عوام دشمن پالیسیوں اور ناقص منصوبہ بندی کی وجہ سے انکی صلاحیتیں مسخ ہو رہی ہیں قارئین حضرات عوام کی صلاحیتوں کو زنگ آلود اور انہیں ذہنی مفلوج کرنے والی یہ پیشہ ور حکومتیں کتنی ہی مظبوط کیوں نہ ہوں آخر کار انہیں زوال پذیر ہونا ہے ایک دانا کاقول ہے " پہاڑ اور رسہ کتنا بھی بڑا ہو آخر اس کا سرا ضرور ہوگا" ۔

0 comments:

Post a Comment