--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

Naee Umang Talk Show

Home » » نہلے پہ دہلے (نیم مزاحیہ کالم) شبیر شاکر انبالوی

نہلے پہ دہلے (نیم مزاحیہ کالم) شبیر شاکر انبالوی

Written By MT News on Monday, 31 July 2017 | July 31, 2017

ہماری بد قسمتی ہے کہ اب تک کوئی ایسا حاکم نہیں مِلا جس کی پہلی ترجیح عوامی مفاد ہو اگر آج کے حاکموں کے شاہانہ ٹھاٹھ خلیجی ممالک کے بادشاہوں جیسے ہیں تو نئے آنے والے کونسا اِن سے کم ہونگے ایک سے بڑھ کر ایک آئے گا،یعنی "نہلے پہ دہلے" ان پر تو یہ مثال صادر آتی ہے کہ ایک مرتبہ جعلی کرنسی بنانے والے ایک فراڈ یے نے غلطی سے پندرہ روپے کا نوٹ بنا لیا بعد میں سوچنے لگا یہ نوٹ شہر میں تو نہیں چلے گا گاؤں اور دیہات کے لوگ سادے ہوتے ہیں اس لیے پندرہ روپے والا نوٹ گاؤں میں جا کر خرچ کروں یہ سوچ کر ایک گاؤں میں گیا اور وہاں جا کر ایک دوکاندار کو پندرہ روپے دے کر کہا کہ بھائی ایک روپے کی ماچس اور بقایا دے دو دیہاتی نے ایک روپے کی ماچس دی اور سات سات روپے کے دو نوٹ اِسے تھمادیے، اب تو سیاسی پارٹیاں دوکانیں اور سیاستدان دکاندار ہیں اور عوام کی اہمیت ان میں پڑی مضوعات کی سی ہے،ریٹ لگنے پر یہ عوام کو بیچتے رہتے ہیں پاکستان قدرت کی عطا کردہ نعمتوں سے مالا مال ایک امیر ملک ہے اسے ان سیاستدانوں نے مفلس کر دیا ہے،بد قسمتی سے ہمارا واسطہ سفاک لیڈروں سے پڑ گیا ہے جن کا اٹھنا ،بیٹھنا ،سونا،جاگنا بس حکومت کرنا ہے اور بے چاری قوم روشنی کی تلاش میں انکے پیچھے لگ کر مزید اندھیروں میں چلی جا رہی ہے پاکستان میں اللہ کا دیا سب کچھ ہے کسی چیز کی کوئی کمی نہیں اگر کمی ہے تو وہ صرف مخلص سیاستدانوں کی ،حیران کُن بات یہ ہے کہ پاکستان دنیا میں زیادہ چاول پیدا کرنے والے ممالک میں ساتویں اور گندم پیدا کرنے میں آٹھویں نمبر پر آتا ہے مگر ان سیاستدانوں کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے پھر بھی پچاس فیصد عوام دو وقت کی روٹی کے لیے پریشان ہے ہماری مظلوم اور معصوم عوام ان سیاسی ڈینگی وائرسوں سے جو بھیس بدل بدل کر آرہے ہیں بڑے مزے سے ڈسوا رہی ہے اگر آج علامہ اقبال کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو رہا تو اسکا ذمے دار یہی دو فیصد مراعات یافتہ حکمران طبقہ ہے دنیا میں ہر ملک کا کوئی نہ کوئی مخالف ملک ہوتا ہے جو اسکی ترقی کے سامنے اسپیڈ بریکر بن کر مشکلات پیدا کرتا رہتا ہے مگر ہمارے ملک کے حاکم خود ہی پاکستان کے لیے اسپیڈ بریکر ہیں یہ حکمران فصلوں کو بچانے کے لیے لگائی گئی وہ باڑ ہیں جو خود ہی فصلوں کو کھا جاتی ہے،قومی خزانے کو ان بازیگرو ں نے خوب لوٹا جو بھی موقع آیا ہاتھ سے جانے نہیں دیا ایک نیوز چینل کے پروگرام میں ایک لیڈر مخالف پارٹی کے سربراہ کے ساتھ بیٹھنے پر اس لیے تیار نہ تھا کہ ان کی کرپشن اور لوٹ مار سے پاکستان کی دنیا میں تذلیل ہوئی ہے یہ سن کر کرٹاک شو کے میزبان نے کہا آپ کے دور میں کونسا پاکستان کا مقام بلند ہو اتھا آپ نے تو وہ بات کر دی کہ کالے رنگ کی گائے دوسری گائے کو کہے کہ ادھر سے دفعہ ہو جا کیونکہ تیری پونچھ کالی ہے اس پر ایک واقعہ یاد آگیا کہ ایک چور میز پر کرسی اور کرسی پر اسٹول رکھ کر مسجد کا پنکھا چوری کر رہا تھا تو اس کی نظر ایک شخص پر پڑی جو چپل سمیت مسجد کے صحن میں گھوم رہا تھا یہ دیکھ کر پنکھا چوری کرنے والا چور اسے کہنے لگا کہ تجھے شرم نہیں آتی کہ مسجد میں چپل ڈال کر گھوم رہا ہے چپل باہر اتار کر آ مگر اس شخص نے چپل نہیں اتاری اور چپل کے ساتھ ہی گھومتا رہا یہ دیکھ کر پنکھا چور نے اس سے کہا کہ شکر کر میں مصروف ہوں ورنہ تجھے بتاتا کہ مسجد میں چپل سمیت کیسے گھومتے ہیں غربت ،جہالت ،انتہا پسندی ،علاقائی عصبیت،فرقہ واریت ،بلیک مارکیٹنگ سمیت تمام برائیوں کا قلعہ قمع صرف اس صورت میں ہو سکتا ہے کہ موروثی جاگیردانہ نظام جس نے غریب عوام کا خون نچوڑلیا ہے اس کی نفی ہو کیونکہ انکی وجہ سے امیر اورغریب کا فرق بڑھتا جا رہا ہے اب تو حال یہ ہے کہ بہت سی قدرت کی عطا کردہ نعمتوں اور سائنسی ایجادات کی بہت سے غریبوں نے شکل تک نہیں دیکھی اگر کسی امیر کا لڑکا مذاق میں بھی کہہ دے ابو مجھے گرمی لگ رہی ہے تو وہ 50 ہزار روپے نکال کر دے گا جاؤ بیٹا اپنے کمرے میں AC لگوا لو اگر غریب کا لڑگا کہے کہ ابا مجھے گرمی لگ رہی ہے توو ہ دس روپے دے کر کہے گا جا کر گنجا ہو جا بڑ ے بالوں کی وجہ سے گرمی لگ رہی ہے امیر سالگرہ پر اپنے بیٹے کو نئے ماڈل کی لینڈ کروزر لے کر دیتا ہے اور غریب کے لیے تین پہیوں والی چھوٹی سائیکل خریدنا مشکل ہوتا جا رہا ہے اور تو اور امیر وں کے بچوں کے خواب بھی بڑے مزے دار ہوتے ہیں صبح اٹھ کر کہتے ہیں ممی رات خواب میں میں نیویارک گیا اور وہاں سے لندن اور لندن سے پیرس کے ائیرپورٹ پر اُترا تو میری آنکھ کھل گئی غریب کا بچہ صبح اٹھ کر کہتا ہے اماں خواب میں مجھے گدھے نے لات ماری اور میں گندے نالے میں گر گیامشہور اسٹیج اداکار سہیل احمد ایک ڈرامے میں کہتا ہے کہ امیروں کے بینکوں میں کروڑوں روپے پڑے ہیں انہیں کوئی فکر نہیں مگر اس کے برعکس غریب کے پاس پیسے ہی نہیں ہوتے کہ وہ بینک میں جمع کروا سکے اگر کوئی غریب تھوڑے سے پیسے جوڑ کر بینک میں جمع کرواہی دے تو رات کو اُٹھ کر بینک کے گارڈ کو جا کر کہتا ہے کہ جاگتے رہنا میرے پیسے جمع ہیں کوئی بینک لوٹ کر نہ لے جائے اتنے تو اس کے بینک میں پیسے نہیں ہوتے جتنے کی وہ بینک کے گارڈ کوچائے پلا دیتا ہے ایک مزاح نگار لکھتا ہے کہ ہمارے ملک کے امیر منرل واٹرپی رہے ہیں اورغریب کو پانی بھی خالص نہیں دیا جارہا ڈیم بنا کر اس میں سے بجلی نکال لیتے ہیں پانی میں پانی ملا کر پتلا کر کے دیا جا رہا ہے اورغریبوں کو ملنے والا پانی کم گیلا ہوتا ہے یہ تو تھی بوریت کوختم کرنے کے لیے مزاح نگاروں کی چند طنزومزاح کی باتیں اللہ تعالی مزاحیہ آرٹسٹوں کو سدا سلامت رکھے کیونکہ یہ مسائل اور بحرانوں میں پھنسی اس عوام کوخوش کر رہے ہیں جو تقریباً ہنسنا بھول گئی ہے دکھوں کی اِس نگری میں اِنکی یہ باتیں سن کر ہنسی روکنا مشکل ہو جاتی ہے او ر اِس کے برعکس اہل اقتدار ایک طویل عرصے سے غلط بیانی اور جھوٹی تسلیاں دیتے چلے آرہے ہیں،ان کے پاس ہر غلط کام اور نا اہلی کو صحیح ثابت کرنے کے لیے دلائل کے ذخائر ہیں نہ مہنگائی کم ہوئی اور نہ ہی بے روزگاری مگر حکومت کی جانب سے وہی روایتی دعوے اور وعدے جاری ہیں مفاد پرستی میں ہمارے حاکموں کی کوئی مثال نہیںیہ شادی کے ولیمے میں بھی خوشی خوشی جائیں گے اور اِسی شخص کے مرنے کے بعد سوئم اورچہلم کے چاول بھی مزے لے لے کر کھائیں گے اور مرحوم کے لواحقین کو کہیں گے کہ اگر آج مرحوم زندہ ہوتا تو اپنے سوئم اور چہلم کے انتظامات دیکھ کر بہت خوش ہوتا اس وقت صورتحال یہ ہے کہ اشیاء خوردونوش کی قیمتوں میں پناہ اضافہ ہوچکا ہے کسی معاشیات کے ماہر کا کہنا ہے کہ اگر بنیادی ضرورت کی چیزوں پر حکومت کا کنٹرول نہیں رہتاتو پھرعوام پر کنٹرول نامکمن ہو جاتا ہے کیونکہ وہ اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے ہر طرح کا قدم اٹھائیں گے لہٰذا حکومت کی ذمے داری ہے کہ وہ عوام کی مہنگائی سے جان چھڑائے مخالفین کو برا بھلا کہنے اور جذباتی تقریروں سے مسائل حل نہیں ہونگے مگر اب ہمارے ارب پتی اور کھرب پتی لیڈروں کو پتا ہی نہیں کہ مہنگائی کس بلا کا نام ہے یہ تو دو وقت کی روٹی نہ ملنے پر احتجاج کرنے والوں کو کہتے ہیں اگر تمہیں روٹی نہیں ملتی تو کیک کھا لو یہ ایسی بے ہودہ پالیسیاں ترتیب دیتے ہیں جس سے مہنگائی میں کمی کے بجائے اور اضافہ ہوتا ہے ان کی مثال ایسے ہے جیسے ایک مسافروں سے بھری کشتی دریا میں چل رہی تھی تو اس میں سوراخ ہو گیا اور سوراخ کے ذریعے پانی کشتی میں آنے لگا تو مسافرپریشان ہو گئے انہیں پریشان دیکھ کر کشتی میں سوار ایک سکھ سردار جی کہنے لگا پریشانی کی کوئی بات نہیں ہے کشتی میں ایک سوراخ اور کر دو ایک سوراخ سے پانی اندر آرہا ہے تو دوسرے سوراخ سے باہر چلا جائے گا حاکموں کا کام بگڑتے ہوئے کاموں کوصحیح کرنا ہوتا ہے مگر ہمارے حاکم کشتی میں سوار سردار جی کی طرح بگڑتے ہوئے حالات کو اور بھی بگاڑ دیتے ہیں غریب اہل وطن کے سروں پر کیسی کیسی بجلیاں کڑک رہی ہیں اور کس قدر سفاک مہنگائی کے صلیب پر لٹکے ہوئے ہیں مزدور اور محدود آمدنی والے افراد نہایت ہی بے بسی کی زندگی گزار رہے ہیں ہاں اگر غریبوں کویہ یقین ہو کہ ہمارے گھر میں چولہا نہیں جلا تو کیا ہوا ہمارے رہنمابھی فاقے سے ہیں تو کم از کم انکی نصف بھوک ضرور مٹ جائے گی مگر اسلامیہ جمہوریہ پاکستان میں فاقے صرف اور صرف عوام کے لیے ہیں دوسرے سیارے کی مخلوق ان حاکموں کے لیے نہیں ۔

0 comments:

Post a Comment