--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

PTV Sports Live

Home » » عمربن عبد العزیزؓ (نیم مزاحیہ کالم) شبیر شاکر انبالوی

عمربن عبد العزیزؓ (نیم مزاحیہ کالم) شبیر شاکر انبالوی

Written By Munawar Hussain on Monday, 31 July 2017 | July 31, 2017

ہمارے ملک کا کونسا شہر ایسا ہے جو تباہی کے دہانے پر نہیں کھڑا ،اداروں کے ساتھ ساتھ بد عنوانی نے پوری قوم کو بھی مفلوج کر کے رکھ دیا ہے ہم تماشاہی بننے والی قیادت کے ساتھ بدل بدل کر نعرے لگاتے ہیں تھوڑے ہی عرصے کے بعد اسی قیادت کی بد عنوانیوں پر واویلا کرتے ہیں،اگر ہم سنجیدگی سے سوچیں گے تو پتہ چلے گا وہی مخصوص لوگ باری بدل بدل کر آرہے ہیں اگر حالیہ قیادت بدعنوان ہے تو اس کے بعد اقتدار کے انتظا رمیں بیٹھی پارٹی کا دامن کیا بے داغ ہے؟ کیا ماضی میں انہوں نے کرپشن نہیں کی یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے پارٹیاں بدل بدل کر مختلف نعروں کے سائے تلے ملک کو کھوکھلا کیا جب تک ہم پچھلی اور موجودہ قیادتوں سے یکسر جان نہیں چھڑائیں گے حالات نہیں بدلیں گے حکمران پارٹی اور حزب اختلاف پارٹی میں دوسرے ملکوں میں فرق ہو توہو مگر پاکستان میں یہ ایک ہی کھوٹے سکے کے دورخ ہیں کھوٹے سکے کی مصیبت یہ ہوتی ہے کہ ایک تو اس سے کوئی چیز نہیں ملتی دوسرا خوامخواہ جیب کا وزن بڑھاتے ہیں،ہمارے حکمرانوں کا ایک ہی خاندان ہے عوام کو بے وقوف بنانے کے لیے ایک انقلاب کا طبلہ بجاتا ہے تو دوسرا جمہوریت کی با نسری تیسرا مار شل لاء کی چھتری میں پناہ لیتا ہے ،بظاہر توا ن میں زمین آسمان کا فرق دکھائی دیتا ہے جھنڈے کا رنگ الگ ،پارٹی کا نام الگ ،منشور الگ، قیادت الگ ،مگر عوام کا استحصال کرنے کے طریقے میں کوئی خاص فرق نہیں جیسے ایک شخص عید پر قربانی کے لیے جانور لینے بکرا پیڑی گیا وہاں ایک بکرے کا سودا لگانے لگا تو دوسرا بکرے والا کہنے لگا یہ بکرا مت لو، ہمارایہ بکرا خرید لو، خریدار نے پوچھا تمہارے والے بکرے میں کیا خوبی ہے تو مالک نے کہا ہمارے والے بکرے کی مینگنیں اس کے بکرے کی مینگنوں سے بڑی ہیں ہمارے ہاں بس ایک پارٹی کو اگر دوسری پارٹی پر فوقیت ہے تو صرف اس بکرے والی ،جو زیادتیاں ہمارے لیڈروں نے عوام کے ساتھ کیں یہ اگر کسی اور ملک میں کرتے تو انکا کب کا نام ونشان ختم ہو جاتا مگر ہمارے ہاں یہ عوام کی یا داشت کی کمزوری سے فائدہ اٹھا رہے ہیں دھوکہ کھانے میں ہماری عوام کا کوئی ثانی نہیں یہ بہروپیے روپ بدل بدل کر عوام کا استحصال کرتے ہیں مومن ایک سوراخ سے دومرتبہ نہیں ڈساجاتا اس لیے مومن ہونے کی بناء پر ہم ہر مرتبہ ایک نئے سوراخ سے ڈسواتے ہیں ہمارے حاکموں کو ڈسنے کی پختہ عادت ہوگئی ہے انکے ڈسنے سے بچنے کے لیے عوام کو اس کچھوے کی طرح بہترین پلانگ بنانی پڑے گی جسے دریا کے کنارے ایک بچھو نے گزارش کی کہ برائے مہربانی مجھے دریا کے اُس پار پہنچا دو کیونکہ مجھے تیرنا نہیں آتایہ سن کر کچھوے کو بچھو پر رحم �آگیا بچھو کو اپنی پیٹھ پر بیٹھا کر دریا کے اس کنارے لیکر جانے لگا تو بچھو کی پیٹھ پر جو پتھرسے بھی زیادہ سخت ہوتی ہے اس پر ڈنک مارنے لگا آواز سن کر بچھو نے پوچھا یہ کیا کر رہے ہو؟ تو بچھونے جواب دیاڈسنا میری عادت ہے لہٰذا وہی کر رہا ہوں جیسے ہی دریا کے درمیان پہنچا تو کچھوا پانی میں غوطے لگانے لگایہ دیکھ کر بچھو چیخا یہ کیا کر رہے ہو میں ڈوب جاؤں گا؟ یہ سن کر کچھوے نے کہا جسے تیری عادت ڈسنے کی ہے اِسی طرح میری بھی عادت ہے کہ دریا کے درمیان میں آکر دس پندرہ غوطے لگاتا ہوں اس طرح کچھوے نے چند ہی غوطوں میں احسان فراموش اورمفاد پرست بچھو کو پانی میں ڈبو دیا جب تک ہم اس استحصالی قوتوں کی چالوں کو انکے مطابق مات نہیں دیں گے اور نقالوں سے ہو شیار نہیں ہونگے تویہ حاکم قوتیں ہمارا استحصال کرتی رہیں گی اور ہمیں خوامخواہ کے نان ایشوز میں الجھائے رکھیں گی پروپیگنڈکے ذریعے ایسے ایسے مسائل پر تحریکیں شروع کروادیتی ہیں جس سے عوام کا دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہوتا اور اپنے بنیادی مسائل بھول کر ہم بھی اِنکے کہنے میں آکر سر گرم ہو جاتے ہیں جسے ایک چودھری نے اپنے ایک سکھ ملازم کو کہا تو یہاں شورنہ کر اور جا کر اس گول کمرے کے ایک کونے میں بیٹھ جا یہ سن کر سردار جی گول کمرے میں جا کر پوری رات گول کمرے میں گھومتا رہا بھلاگول کمرے میں کونا کہاں، بس چودھری نے پاکستانی عوام کی طرح سردارجی کو مصروف رکھنا تھا گذشتہ 68 سال سے ہم حکمرانوں کا یہی تماشا دیکھتے چلے آرہے ہیں یہ عوام کو بھی قومیت اور لسانیت کی بنیاد بنا کر مصروف رکھتے ہیں اور کبھی کالا باغ ڈیم، NRO، آمریت ،جمہوریت ،نوربشر ،مُردے قبر میں سنتے ہیں کہ نہیں جیسی باتوں میں الجھائے رکھتے ہیں ایک ٹی وی چینل پر جب یہی مسئلہ اٹھا یا کہ قبر میں مردے سنتے ہیں کہ نہیں اس پروگرام میں موجود ایک مذہبی اسکا لرنے کیا خوب جواب دیا کہ یہاں ہماری زندہ نہیں سنتے تم مردوں کی بات کرتے ہو کسی بھی ادارے یا محکمے میں جا کر دیکھ لو کیاغریب کی کوئی سنتا ہے ،ایک آفیسر دوسرے کے پاس اور دوسرا تیسرے کے پاس بھیج دیتا ہے تم مردوں کو سنانے کی بحث میں پڑے ہوئے ہو دھوکہ دہی ،فریب، ریا کاری سمیت ہر خراب صفت ہمارے حکمرانوں میں پائی جاتی ہے یہ جاگیر دار اور دو فیصد مراعت یافتہ طبقہ غربت سمیت ہمارے تما م مسائل کا ذمے دار ہے معاشرہ تو معاش سے بنتا ہے معا ش کی غیر منصفافہ تقسیم ہونے کی بناء پر کبھی بھی ایک اچھا معاشرہ تشکیل نہیں دیا جا سکتا بے پناہ معاش اور پیسہ رکھنے والا بھی قانون توڑے گا اور معاش کی کمی والا بھوکہ بھی قانون توڑے گا مالدار اس لیے من مانی کرے گا اور قانون توڑے گا کہ میں پیسے دے کر چھوٹ جاؤں گا اور بھوکہ اپنی بھوک ختم کرنے کے لیے قانون توڑے گا بغیر تربیت کے بے حد مفلس اوربے حد مالدار عموماً جو ہر انسانیت سے محروم ہو جاتے ہیں واضح کرتے چلے کہ مفلس تو محراب پور میں بھی موجود ہیں مگر بے حد مالدار کے پیمانے پر شہر میں کوئی بھی پورا نہیں اُترتا یہ سب سفید پوش اور مڈل کلا س لوگ ہیں سرمایہ دار کا لفظ تو ملک میں صرف چند سو خاندانوں کے لیے استعمال ہوتا ہے یہ مخصوص مرامات یافتہ طبقہ ملک میں صرف دو فیصد ہے جن کو اپنی جاگیروں ،بینک بیلنس اور سرمائے کے بار ے میں پتہ ہی نہیں ہوتا کہ کتنا ہے اور کہاں کہاں ہے ایسا ہی ایک جاگیر دار براستہ سڑک اپنے مہمان کے ساتھ لینڈ کروزرمیں اسلام آباد جا رہا تھا راستے میں کینوکا باغ دیکھ کر مہمان نے اپنے جاگیر دار دوست سے کہا تازہ کینو کھانے کو دل کر رہا ہے یہ سن کر اس جاگیر دار نے پیسے دے کر ڈرائیور کو کہا کہ جاؤ وہ جو سامنے کھڑا ہے اس سے کینو لے آؤ ڈرائیور گیا اور مالی سے کینو لے کر پیسے دینے لگا تو اس مالی نے پیسے لینے سے انکار کر دیا ڈرائیور نے کہا پیسے رکھ لو تو غریب آدمی ہے ترے مالک کو پتہ چلے گا تو وہ غصہ ہو گا یہ سن کر مالی نہ کہا بھائی اس باغ کا مالک وہ ہی تو ہے جس نے یہ کینو منگوائے ہیں وہ جو سامنے لینڈ کروزر میں بیٹھا ہے پچھلے دنوں ایک پریس رپورٹر محراب پورکے ایک شخص کو سرمایا دار کہہ کر نفرت کا اظہار کرنے لگا تو ہم نے اس سے کہا کہ سرمایہ دار کے پیمانے پر یہ شخص پورا نہیں اُتررہا مگر وہ نہ مانا محفل میں موجود ایک صحافی نے اس سے کہا جسے تو سرمایہ دار کہہ رہا ہے اسکی سالانہ آمدنی کتنی ہے تو اس صحافی نے تقریباً اسکی جتنی سالانہ آمدنی بتائی تو ایک تازہ شائع ہونے والے میگزین میں ملک کے ایک صنعت کار کے ریس میں دوڑنے والے گھوڑے کی ماہانہ خوراک کی قیمت اس سے کئی گناہ زیادہ تھی یقین جا نو وہ گھوڑا جس یورپین ملک کا ہے اس کی گھاس وہاں سے منگوائی جاتی ہے جب اس صحافی بھائی نے ان کے کتوں کی قیمتیں اس میگزین میں پڑھیں تو وہ جنہیں محراب پور میں سرمایہ دار کہتا تھا انہیں مڈل کلاس سمجھنے لگا اور اس کے نفرت والے جذبات میں کافی کمی آئی ہمارے سیاستدانوں اور حکمرانوں کا ان ہی دو فیصد مرامات یافتہ طبقے سے تعلق ہے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عوام غریب ہو رہی ہے مگر یہ امیر سے امیر تر ہوتے جا رہے ہیں پچھلے دنوں جیو کے کیپٹل ٹاک میں حامد میر سے ایک سیاستدان کی بیگم نے بڑے تکبر سے کہا اب ہمیں سیاست کرنے کا کوئی زیادہ شوق نہیں کیونکہ اگر ہم چاہیں تو آسٹریلیا جا کر پاکستان کے رقبے جتنی اراضی خرید سکتے ہیں اسلام آباد کے قلعے پاکستان کے حکمرانوں کی یہ باتیں سن کر( عمر ثانی ) عمر بن عبدالعزیزؓ کی یاد آگئی پاکستان سے کئی گنا بڑے وسیع عریض ریاست کے حاکم عمر بن عبدالعزیزؓ کو نا ساز طبیعت کی بناء پر قے (الٹیاں ) آگئیں اور قمیض خراب ہو گئی حکیم کو بلایا حکیم نے آتے ہی کہا پہلے آپؓ کی قمیض تبدیل کرو یہ سن کر ساتھی گھر میں دوسری قمیض ڈھونڈنے لگے قمیض نہ ملنے پر عمر بن عبدلعزیزؓ سے پوچھا کہ قمیض کہاں رکھی ہے تو آپؓ نے جواب دیا میرے پاس صرف ایک ہی قمیض ہے میلی ہونے پر اسے ہی دھو کر ڈال لیتا ہوں۔

0 comments:

Post a Comment