--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
Home » » خالی ہاتھ (نیم مزاحیہ ) شبیر شاکر انبالوی

خالی ہاتھ (نیم مزاحیہ ) شبیر شاکر انبالوی

Written By Munawar Hussain on Monday, 31 July 2017 | July 31, 2017

محراب پور ٹائمز اپنی اشاعت کے نویں سال میں داخل ہو گیا آٹھ سال سے بلند تر معیارکی مسلسل جستجو نے اس اخبار کو ایک ایسی حیثیت بخشی جسے بہترین کہا جا سکتا ہے محراب پور ٹائمز کی آٹھویں سالگرہ کے موقعہ پرہر مکتبہ فکر کے افرادنے SMS اور فون کالز کے ذریعے نیم مزاحیہ کالم کو سراہا جس پر تمام قارئین کا تہہ دل سے مشکورہوں کالم نویسی کے اس صحافتی سفر میں اخبار کے ایڈیٹر منور حسین منور ،ٹیم کے ممبروں غلام نبی مغل اور ندیم سرویا کا بھی شکر گزارہوں جنہوں نے ہمیشہ کالم کے لیے انٹرنیٹ سے مختلف ویب سائٹس کے ذریعے تاریخی حوالے اور دیگر ضروری مواد مجھ نا چیزکو مہیا کیا ادارے نے کئی مرتبہ قارئین سے گزارش کی کہ وہ ہماری غلطیوں اور کمی بیشی کی بے دھڑک نشاندہی کریں ہم ان کی جائز بات دل سے تسلیم کر کے اسے درست کرنے میں دیر نہیں کریں گے اور ایسا کیا بھی مگر چند SMS ایسے بھی آئے جن میں مثبت تنفید کے بجائے اس مقامی اخبار پر الزام تھا کہ پیسوں کی لالچ میں معیاری صحافت نہیں کر رہا تو جناب عرض کرتے چلیں کہ صوبائی و وفاقی سرکار کی جانب سے ہمارے ادارے کو کسی قسم کا کوئی مالی تعاون نہیں اس لیے بیانات اور اشتہاروں کے پیسے لیے جاتے ہیں تاکہ اس حاصل شدہ رقم سے تسلسل کے ساتھ اخبار شائع کیا جا سکے ،محراب پور ٹائمز نے کبھی بھی مالی مفاد ات کی خاطر حقائق مسخ نہیں کیے اخبار میں نہ ہی کبھی پیسوں کی لالچ میں سیاسی ومذہبی منافقت انگیزی اور غیر اخلاقی محرکات کو جگہ دی اس لیے تو ہم شہر کی اکثریت کے سامنے سرخرو ہیں ۔بندہ بشر ہے خطا کار ہے خرابیاں اور خامیاں بجا،ہزاروں عیب سہی مگر دعوے سے یہ بات کہتے ہیں کہ قلم سے ہمیشہ مزدوری کی ہے کبھی بھی پیسوں کی خاطر قلم پر گھنگھرو باندھ کر افسر شاہی اور باا ثر افراد کے درباروں میں اسے نچوایا نہیں جس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ سکندر تو جب دنیاسے گیا تو اس کے دونوں ہاتھ خالی تھے ہمارے تو دنیامیں ہی دونوں ہاتھ خالی ہیں،سالگرہ ،شادی بیاہ،عید اور دیگر مذہبی ثقافتی رسومات ہماری چھوٹی ، چھوٹی خوشیوں کے مواقع ہیں ہم بدقسمتی سے سال میں کبھی کبھارآنے والے یہ لمحے بھی مختلف تنازعات کی نظر کر کے ضائع کر دیتے ہیں ہم خوشی کے موقع پر بھی خوش نہیں رہتے شاباش تو ان لوگوں کو ہے جو دکھ اور افسردہ کر دینے والے موقع پر بھی حوصلے سے کام لیتے ہوئے قدرت کا لکھا سمجھ کر خوشی خوشی نبھاتے ہیں زندگی میں سب سے زیادہ اداس ،مایوس اور پریشان کر دینے والا لمحہ اپنے پیارے دوست یا کسی عزیز کا اس دار فانی سے کوچ کر جانے والا ہوتا ہے اس میں کوئی شک بھی نہیں کہ یہ بہت زیادہ تکلیف دہ ٹائم ہوتا ہے مگر دنیا میں ایسے لوگ بھی ہیں جو ایسے موقعوں پر بھی حوصلے اور صبر کادامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے اور اللہ کی رضاپر راضی ہوتے ہوئے تدفین کی تمام رسمیں احسن طریقے سے انجام دیتے ہیں ایک مزاحیہ پروگرام کے اختتام پر مشہور کا میڈین سردار کمال نے شائقین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جب میں یہاں آنے کے لیے گھر سے نکل رہا تھا تو میرے بیمار بیٹے نے دم توڑ دیا گھروالوں نے بہت رو کا مگر میں میت چھوڑ کر خوشیاں بانٹنے یہاں آگیا کیونکہ تم میرانتظار کر رہے تھے نہ آتا تو تم کتنے لوگ مایوس ہوتے میں اپنے چاہنے والوں کو پریشان نہیں دیکھ سکتا صبح9 بجے میانی والے قبرستان میں تدفین ہوگی لہذا تمام حاضرین سے گذارش ہے کہ وہ نمازِ جنازہ میں ضرور شرکت کریں واقع لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ جس طرح کچھ لوگوں نے ہر ٹائم پر یشان رہنے کی قسم کھائی ہوتی ہے اسی طرح کچھ لو گ دکھ بھرے لمحات میں بھی صبر کادامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے چند دن پہلے ایک ایسا اصلاحی ڈرامہ دیکھنے کو ملا جو طنزومزاح کے ساتھ ساتھ سبق آموز تھا اس میں انسان کادار فانی سے کوچ کرنے کفن دفن ،جنازہ ،تدفین اور اس موقعہ پر ہونے والی تمام رسومات کو دکھایا گیا جنازے کے ساتھ ساتھ چلنے والوں اور ورثا سے تعزیت کے لیے آنے والوں کی گفتگو ،جنازہ گاہ،میت اور قبرستان کے ایسے زبردست سیٹ لگائے ہوئے تھے جنھیں دیکھ کر حقیقت کا گمان ہوتا تھا ،ڈرامہ شروع ہوتا ہے پہلے سین میں دریا میں ڈوب کر مرنے والے ایک مراثی کی لاش نکال کر گھر لائی جاتی ہے تو مولوی صاحب ورثا کو کہتا ہے کہ پہلے ہی کافی دیر ہو چکی ہے جلدی کرو میت کو غسل بھی دینا ہے یہ سن کر ڈوب کر مرنے والے مراثی کا بڑا لڑکا کہتا ہے مولوی صاحب غسل کی ضرورت نہیں نہاتا ہوا تو مراہے اس کے بعد جب کفن لینے کپڑے کی دوکان پر جاتے ہیں تو مرحوم کا دوسرا لڑکا کپڑے والے کو کہتا ہے اچھا سا کفن دینا میرا ایک ہی ابا تھا اورپہلی دفعہ مرا ہے یہ سن کر دوکاندار ہنسنے لگا اور اس نے اچھے کپڑے کا سوتی کفن دکھایا سفید کفن دیکھ کر مراثی کا بڑا لڑکا کہنے لگا یہ رنگ جلدی میلا ہو جاتا ہے کسی اور رنگ میں دکھا،یعنی بات بات پر مزاح دیکھنے کو مل رہا تھاغسل اور کفن دینے کے بعد میت کو جنازہ گاہ میں لایا جاتا ہے جنازہ نمازسے پہلے اعلان کیا گیا کہ جس کسی نے بھی مرحوم سے کچھ لینا ،دینا ہے تو وہ مرحوم رشید کے بڑے بیٹے سے کہہ دے اعلان سن کر ایک شخص کہتا ہے کہ میں نے مرنے والے سے چالیس ہزار لینے ہیں اتنی بڑی رقم کا سن کر مراثی کا لڑکا بولا ابا سامنے پڑا ہے منہ پر کرادے اباکہے گا تومیں ایک ایک پائی دے دوں گا،نمازہ جنازہ کے بعد میت کو لحد میں اتار کر جب مٹی ڈالنے لگتے ہیں تو مراثی کا لڑکا چیخ کر کہتا ہے کہ بھائیو مٹی نہ ڈالو میرے باپ کو مٹی سے الرجی ہے خیر لوگوں نے اس کی بات سنی ان سنی کر کے دفن کر دیا مرحوم مراثی کے بیٹے کوا اس کے دوست نے کہا کہ اپنے والد کی قبر پکی ضرور کرانا یہ سن کر مراثی کا چھوٹا بیٹا بولا کیوں کچی قبر سے نکل کر بھاگ جائے گا دفنا نے کے بعد جب ورثاگھر آئے تو تعزیت کے لیے آنے والوں کا سلسلہ شروع ہو گیا ڈرامے میں تعزیت کے لیے آنے والوں کی آپس میں ہونے والی گفتگو اور کچہری کو بڑے واضح طور پر دکھایا گیادعائے مغفرت کرنے کے لیے آنے والا ایک ستر سالہ دوکاندار لواحقین سے تعزیت اور مرحوم کی تعریف کر نے کے بعد کہنے لگا کہ دنیا فانی ہے سب کچھ یہیں چھوڑ کر چلے جانا ہے پل کا بھی پتا نہیں پھر اپنے کاروبار کی باتیں کرتے ہوئے کہنے لگا میں نے شہر سے باہر نہر کے نزدیک تین پلاٹ لیے ہیں یہ سن کر ساتھ بیٹھے ہوئے شخص نے کہا چاچا وہ تو بہت دور ہیں ستر سالہ دوکاندار نے جواب دیا کوئی دور نہیں پندرہ بیس سال کے بعد شہر اس سے بھی آگے چلا جائے گاکارنر کا پلاٹ ہے بیچا بھی تو کروڑوں میں جائے گا گفتگو جاری تھی کہ ایک شخص دعاکے لیے آیا دعا کرتے ہی پھر وہ ہی دوکاندار کہنے لگا دنیا فانی ہے ایک سکینڈکا بھی پتہ نہیں سب چھوڑ جانا ہے بس اعمال کام آئیں گے میں نے بحریہ ٹاؤن میں بھی ایک پلاٹ کی جگہ بک کروائی ہے میرا ارداہ کچھ عرصے بعد یہ جگہ بیچ کر بحریہ ٹاؤن میں شفٹ ہونے کا ہے تھوڑی دیر بعد جاتے ہوئے پھر کہنے لگا بس جی انسان پانی کا بلبلہ ہے پل بھر کا بھی پتہ نہیں سب کچھ یہیں چھوڑ جانا ہے بس بندے کو آخرت کی فکر کرنی چاہیے منظر بدلتا ہے قبرستان کا لگایا گیاسیٹ سامنے آتا ہے اور کیمرا ایک مرحوم کرپٹ سیاستدان کی قبر کو فوکس کرتا ہے قبر سے اچانک کفن سمیت بدعنوان سیاستدان باہر نکلتا ہے دیکھتے ہی دیکھتے تمام قبروں سے بھی مردے باہر آجاتے ہیں تھوڑی دیر بعد مرحوم سیاستدان مردوں سے خطاب شروع کرتا ہے میرے تمام مردہ بھائیوں ،بہنوں اور بڑے پرانے مرے ہوئے بزرگو!اسلام علیکم سب سے پہلے تو میں نے آپ سے ایک گلہ کرنا ہے وہ یہ کہ ہر روز قبر میں میری چیخیں نکلتی ہیں لیکن آپ نے کبھی میرا حال تک بھی نہیں پوچھا میری بد بخت اولاد نے بھی کبھی قبرستان کا رخ نہیں کیا آپ لوگوں کے عزیزو اقارب آتے ہیں قبروں پر پھول ڈالتے ہیں پھرفاتحہ خوانی کرتے ہیں جس کا آپ کو فائدہ ہی فائدہ ہوتا ہے مجھے افسوس سے یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ میرے بچے یہ کام نہیں کرتے حالانکہ میں نے انکے لیے جس طرح بھی ہو سکا دولت کمائی میں نے غلط طریقے سے سیاست میں بڑی بڑی منزلیں پائیں میں وزیر بنا انکے لیے کئی مرتبہ سیاسی پارٹیاں بدلیں اور لوٹاکہلوایا۔میرا جہاں بس چلا میں نے وطن کو لوٹا ،میں نے زکواۃ بھی نہیں چھوڑی ،میں غریبوں اور یتیموں کا مال بھی ہڑپ کر جاتا تھا انہی دنوں میں نے کئی بیوہ عورتوں کے پلاٹوں پر قبضہ کیا اس لوٹ مارسے میں نے محل نما بڑے بڑے گھر بنوائے مگر قبرستان میں میرے ساتھ نا انصافی ہوئی کہ میری قبر بھی آپ لوگوں جتنی ہے بلکہ کچھ قبروں سے بھی چھوٹی چلو میرے خاندان والوں نے اسے پکاکروا دیا مگر یہ بتاؤتمہاری کچی قبروں میں بچھو اور سانپ کیوں نہیں جاتے یہ میری پکی قبرکا رخ کیوں کرتے ہیں تم لوگ راتوں کو سکون سے سوتے ہو مجھے ساری ساری رات سانپ اور بچھو ڈنک مارتے رہتے ہیں اب تو یہ دن میں بھی اپنی کارروائی سے باز نہیں آتے اب میں سوچتا ہوں کہ آخر مجھے لوٹمار کا کیا فائدہ ہو امیری اولاد جس کے لیے میں نے سارے گناہ کیے وہ بھی قبرستان نہیں آتی اور نہ ہی کبھی فاتحہ خوانی یا قران خوانی تک کروائی مرنے کے بعد اب میں اپنے مظالم یاد کر کے روتا ہوں مگر میرے رونے کا اب کوئی فائدہ نہیں یہ کہتے ہی مرحوم سیاستدان زور زور سے روتے ہوئے کھلی ہوئی قبر کی لحد میں گِر جاتا ہے اسی وقت مرحوم کا خطاب اور ڈرامہ اختتام پذیر ہو جاتا ہے۔

0 comments:

Post a Comment