--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

PTV Sports Live

Home » » غیر مسلم حاکم (نیم مزاحیہ کالم) شبیر شاکر انبالوی

غیر مسلم حاکم (نیم مزاحیہ کالم) شبیر شاکر انبالوی

Written By Munawar Hussain on Monday, 31 July 2017 | July 31, 2017

ہمارے پیارے پاکستان کے حکمران طبقے نے عوام سے وہ وہ ہتھکنڈے کیے جو بیان سے باہر ہیں انہوں نے عوام کو آسمان سے گِرا کر کھجورمیں اَٹکنے بھی نہ دیا اِیسے اِیسے خواب دکھائے جنکی تعبیریں بھی نہ تھیں 18ویں ترمیم،عدلیہ کی بحالی ،آمریت ،جمہوریت ،ایان علی ،ریحان خان، ڈاکٹر عاصم جیسے بہت سے ایسے ایشوز پر عوام سے جشن منانے کے لیے کہا جبکہ ان میں عوام کے فائدے اور خوشیاں منانے کی کوئی بات بھی نہ تھی جیسے ایک سکھ سردارجی کا قیمتی گھوڑا گم ہو گیا گمشدگی کی اطلاع پر اِسکے دوست احباب جب اس سے ملے تو سردارجی خوشی منا رہا تھا دوستوں نے کہا سردار جی ایک نہایت ہی قیمتی گھوڑا گم ہو گیا ہے اور آپ خوش ہیں اِس کی کیا وجہ ؟ سردار جی نے کہا جب گھوڑا گم ہوا تو اس وقت میں اس پر سوار نہیں تھا جسکی وجہ سے گھوڑے کے ساتھ میں گم ہونے سے بچ گیا اِس لیے خوشیاں منا رہا ہوں،ہمارے اِن حکمرانوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے پُر سکون اور آرام طلب زندگی کے بارے میں توعوام سوچ بھی نہیں سکتی آجکل اگر کسی شخص سے پوچھو کہ تو کیسی زندگی گزارنا چاہتا ہے تو وہ کہے گا کہ بھائی اب تو عزت سے ٹائم پاس ہو جائے وہی غنیمت ہے ہماری مثال تو اُس نابینے کی طرح ہوگئی ہے جس سے اِس کے دوستوں نے پوچھا کہ حافظ جی ہم تیری شادی کر رہے ہیں بتا تیری بیوی کیسی ہو ؟اندھے نے بڑی معصومیت سے جواب دیا ،یارو بس زندہ ہو کیونکہ میں کونسا دیکھ سکتا ہوں کہ خوبصورت ہے یا بد صورت ان مفادپرست حاکموں نے عوام کو اس نہج پر پہنچا دیا کہ اب وہ آئیڈیل زندگی کا تصور بھی بھول گئے اب تو دو وقت کی روٹی کو عیاشی کی زندگی سمجھنے لگے ہیں ماضی کے فرعونوں ،نمرودوں اور شدادوں کی باتیں کرتے وقت ہمیں دنیا کے زندہ فرعونوں اور نمرودوں پر بھی نظر رکھنی ہوگی اسی طرح دیگر ممالک کے فرعونوں اور نمرودوں پرلعنتیں بھجنے سے پہلے اپنے ملک کے نمرودوں ،شدادوں کا محاسبہ ضروری ہے جب تک اپنے ملک کے ظالموں کا گھیراؤ نہیں کریں گے ملک کے مسائل حل نہیں ہونگے کیونکہ آج ہم جن مسائل میں دھنسے چلے جا رہے ہیں وہ ان ہی کی وجہ سے ہیں انہیں ملک سے باہر نکالنا ہو گاورنہ ہماری مثال اس دیہاتی کی سی ہو گی جو مولوی کے پاس آیا اور کہنے لگا مولوی صاحب میرے گھر کے کنویں میں کُتا گِر گیا ہے اب مجھے کیا کرنا چاہیے مولوی نے مسئلہ بتاتے ہوئے کہا اب کنویں کا پانی ناپاک ہو گیا ہے پاک کرنے کے لیے تجھے تقریباً40 ڈول پانی کے نکالنے ہونگے تب کہیں جا کر پانی پاک ہو گا دوسرے دن وہ دیہاتی مولوی صاحب کو ملا اور پوچھنے لگا کہ کیا اب میں کنویں کا پانی پی سکتا ہوں مولوی نے پوچھا کیا تو نے 40 ڈول پانی کے نکال دیے ؟ اس نے کہا جی ہاں تو مولوی نے کہا اب پانی پاک ہو گیا پینے کے لیے استعمال کر سکتے ہو اتنے میں مولوی کے قریب بیٹھے ہوئے ایک نمازی نے دیہاتی سے پوچھا تو نے کنویں سے پانی کے ڈول تو نکال لیے اور وہ کُتا؟یہ سُن کر دیہاتی نے کہا کُتا تو کنویں کے اندر ہی ہے کیونکہ مولوی نے کُتا نکالنے کا نہیں کہا تھا صرف پانی کے ڈول کا کہا تھا ،ہماری مثال بھی کچھ اس سے ملتی جلتی ہے ہم بھی مسائل پیدا کرنے والے حاکموں سے جان چھڑا ئے اور پاکستان سے نکالے بغیر اپنے ملک کو مسائل سے پاک کرنا چاہتے ہیں لہذا اپنی تمام تر تحریکیں پاکستان میں موجود جاگیردار اور سرمایہ داروں کی صورت میں ان چھوٹے چھوٹے امریکہ کے خلاف چلانی ہوں گی تب کہیں جا کر فائدہ ہو گا مگر اس کا مقصد یہ نہیں کہ ہم امریکہ سامراج کو یکسر نظر انداز کر دیں اور اسکے ظالمانہ تسلط کے خلاف آواز ہی نہ اٹھائیں بلکہ ہر فورم پر نام نہاد سپرپاورامریکہ کے خلاف احتجاج کرنا ہے مگر ان قوتوں کو نظر انداز نہیں کر سکتے جن کے ذریعے امریکہ سامراج ہمارے ملک میں اپنی من مانیاں کر رہا ہے اور جن کی وجہ سے ہمیں یہ دن دیکھنا نصیب ہوئے ہیں یہ جاگیردار اور سرمایہ دار ہمیں کہتے ہیں کہ طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں مگر حقیقت میں ایسا نہیں کیونکہ طاقتور طاقت کے ذریعے اپنے تمام مسائل حل کر لیتا ہے مگر یہاں طاقت کا سرچشمہ عوام چاروں طرف سے مسائل میں گھر ی ہوئی ہے یہ کیسے طاقتور ہیں جو جانوروں سے بھی بد ترزندگی گزارنے پر مجبور ہیں دراصل طاقت کا سرچشمہ ہمارے ملک کے یہی سرمایہ دار اور جاگیر دار ہیں جنہوں نے ہمیں اور ملک کو ایسے مقام پر لاکھڑا کیا کہ ہم سے بعد میں آزاد ہونے والے ممالک بھی ترقی میں ہم سے کئی گُنا آگے چلے گئے اور ان میں جرائم کی شرح نہ ہونے کے برابر ہے جن ممالک کو ہم براکہتے ہیں ان ممالک میں سروے کے مطابق گذشتہ سال ایک بھی موبائل چھننے کی واردات نہیں ہوئی جبکہ ہمارے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے صرف کراچی میں تقریباً ایک لاکھ موبائل چھینے گئے بعض موقعوں پر سستے موبائل رکھنے والوں کی ڈاکوؤں نے پٹائی بھی کی یہ سستا موبائل کیوں رکھا ہوا ہے ،معروف کا میڈین امان اللہ کہتے ہیں یہ موبائل ہمارے نہیں ہیں بلکہ ڈاکوؤں نے امانت کے طور پر ہمارے پاس رکھوائے ہوئے ہیں اس لیے جب وہ آتے ہیں ہم انہیں نکال کر دے دیتے ہیں اب تو حالت یہ ہے کہ پیسوں سے بھی ایک نمبردوائی نہیں ملتی مگر کافر ملکوں میں علاج مفت ہے اس کے علاوہ صفائی نصف ایمان پر ہمارے دشمن ممالک عمل پیراہیں اور ہم جب تک اپنے گھر کا کوڑا سامنے والے گھر کی دہلیز پر نہ پھینکیں تب تک ہمیں چین نہ آئے عیسائیوں اور یہودیوں کے ملکوں میں انکے مذہبی تہواروں کے موقعوں پر ضرورت اشیاء کی قیمتیں کافی حد تک کم کر دی جاتی ہیں مگر ہمارے ہاں رمضان شریف آنے کی دیر ہے کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں کئی گنا اضافہ کر دیا جائے گا،امریکہ، یورپ اور دیگر کافر ملکوں کی عوام لوڈشیڈنگ کے نام سے بھی واقف نہیں اِنکے حاکم اور قیادتیں غیر مسلم ہونے کے باوجود اپنے ملک اور قوم کے خیر خواہ ہیں اور آئے دن اپنی عوام کی جان ومال اور صحت کے تحفظ کے لیے نئی نئی پالیسیاں بناتے رہتے ہیں اور ہمارے مسلمان حاکم اپنی مسلمان عوام کو واٹر سپلائی میں گندی نالیوں کا ناپاک پانی پِلارہے ہیں ہم بیرونِ ملکوں کی باطل قوتوں اور سامراجیوں کے ساتھ لڑنے اور اِنکے دانت کھٹے کرنے کی بات تو کرتے ہیں مگر اپنے ملک کی اندرونی باطل قوتوں کا کیا کریں جنہوں نے خوشحال ملک کی عوام کو اپنی اُولاد بیچنے پر مجبور کر دیا ہماری بھی ایک عجیب نفسیات ہوگئی ہے کہ ہم ہر نقصان اور فالٹ کا ذمہ دار غیروں کو سمجھتے ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ کچھ حد تک وہ ذمہ دار ہیں مگر اس کا ہمیں دُکھ نہیں ہونا چاہیے کیونکہ جب ہم انہیں کہتے ہی دشمن ہیں تو دشمن تو دشمنی ہی کریگامگر افسوس اور دُکھ تو ہمیں اِنکا ہونا چاہیے جو ہمارے ہم مذہب بھی ہیں اور ہم زبان پاکستانی بھی جن کو ہم نے اپنا رہنماا و رہبر بنایا ہوا ہے ملکی سطح اور بڑے پیمانے کو چھوڑ کر نچلی سطح پر بھی دیکھیں تو ہمیں مسائل سے دوچار کرنے والے اور ہماری زندگیوں کو عذاب بنانے والے کوئی غیر نہیں بلکہ ہم میں سے ہی ہیں جعلی کھاتے بنا کر غریبوں کی زمینوں کو دوسرں کے نام منتقل کرنے والے پٹواری بھی اپنے، بجلی کے ناجائز کنکشن دینے والے بھی اپنے ،اغواء برائے تاوان کے لیے انسانوں کو جانوروں کی طرح اُٹھا کر لے جانے والے بھی اپنے،دووقت کی روٹی کے لیے اپنے بچوں کو بیچنے والے بھی اپنے، لاکھوں ٹن گندم ذخیرہ کرنے والے ذخیرہ اندوز بھی اپنے،بم دھماکوں میں ہلاک ہونے والے بھی اپنے اور بم دھماکے کرانے والے بھی اپنے ،ملک بنانے والے اور پھر اِسی ملک کو دوٹکرے کرنے والے بھی اپنے،غیروں پر لعنتیں بھجنے سے پہلے اور جذباتی ہونے کے بجائے ٹھنڈے دماغ سے سوچیں کہ پیارے نبی ؐ کی امت اور قرآن اور ایک خدا کو ماننے والوں کو پاکستان میں فرقوں کے نام پر تقسیم در تقسیم کس نے کیا کس نے ایک فرقے کو دوسرے فرقے کا دشمن بنایا اور بد قسمتی سے پھر وہی لوگ اپنے بیانات اور تقریروں میں کہتے ہیں ہمیں کفار اور اسلام دشمن باطل قوتوں سے مقابلے کیلئے ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا ہونا ہوگا اور یہودو نصاریٰ کا متحد ہو کر مقابلہ کرنا ہے کوئی ان سے پوچھے کہ تم مسلمانوں کو متحد کرنا چاہتے ہو تو پہلے انہیں فرقوں کے نام پر اَلگ اَلگ ہی کیوں کیا تھا اگر ہم یوں کہیں کہُ امت مسلمہ کو لڑانے والے بھی اپنے اور پھر اِنہیں متحد ہونے کی اپیلیں کرنے والے بھی اَپنے، اس کے علاوہ کشکول توڑنے والے بھی اپنے اور پھر اِسے ایلفی سے جوڑ کر ورلڈ بینک کے آگے کرنے والے بھی اپنے اور تو اور رہبر بھی اپنے تو رہزن بھی اپنے ،بھوک اور افلاس سے لوگ خودکشیاں کر رہے ہیں کی خبریں نشر کر کے نئی نئی کھانے پکانے کی ترکیبیں بتانے والے نیوز چینل بھی اپنے، ان تمام مسخریوں،نوسربازیوں اور ملک وقوم کو تباہی کے دہانے پر پہنچانے والے اِن اپنوں کا محاسبہ نہ کیا تو یہ بازی گر آگے چل کر ہمیں جذباتی کرنے کے لیے مسجدوں سے چپلیں، لیٹرینوں سے لوٹے اورٹونٹیاں چوری ہونے میں بھی غیر ملکی خفیہ ہاتھوں کو ملوث کر دیں گے۔

0 comments:

Post a Comment