--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
Home » » سیاست دانوں کے بیانات (نیم مزاحیہ کالم) شبیر شاکرانبالوی

سیاست دانوں کے بیانات (نیم مزاحیہ کالم) شبیر شاکرانبالوی

Written By Munawar Hussain on Monday, 31 July 2017 | July 31, 2017

ایک شخص نے بادشاہ کے دربار میں ملاں نصیر الدین کی شکایت کی کہ نصیر الدین نے پانی کیلئے مجھ سے مٹکا اُدھار لیا تھا اور اَب مجھے ٹوٹا ہوا مٹکا واپس کیاہے بادشاہ نے ملاں نصیر الدین کو دربار میں بلایا اور کہا کہ اِس شخص نے تجھ پر الزام لگایا ہے تونے اس سے مٹکا ثابت لیا اور اسے ٹوٹا ہوا واپس کیا ملاں نصیر الدین نے دربار میں جو بیان دیا وہ ہنسنے کے قابل ہے ملاں نصیر الدین نے کہا کہ بادشاہ سلامت یہ شخص جھوٹا ہے پہلی بات یہ کہ میں نے اس سے مٹکا لیا ہی نہیں دوسری بات جب میں نے اس سے مٹکا لیاتھا وہ ٹوٹا ہوا ہی تھا تیسری بات یہ ہے کہ جب میں نے اسے مٹکا واپس کیا تو وہ ثابت تھاملاں نصیر الدین کے اس بیان اور ہمارے آج کے سیاستدانون کے بیانات کو ملائیں تو ایک جیسے ہونگے اصول، اخلاقیات ، سچ کا درس دینے والے ہرروز اپنے عمل سے اپنے ہی کئے کو جھوٹ ثابت کرتے ہیں اب تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ متضاد اور اُلٹے سیدھے بیانات دے کر عوام کو چڑاتے ہیں ہمیں تو یہ پتا نہیں چلا کہ ہمارے سیاستدان آخر کرتے کیا ہیں سوائے جھوٹ بولنے اور آسان کام کو مشکل کرنے کے، ہمارے حاکم خواہ ان کا تعلق سیاست سے ہو، بیوروکریسی سے ہو یا کسی دوسرے شعبے سے بڑے پروجیکٹ اور ادارے چلانے کی طاقت سے محروم ہیں یہ آسان اور سہل کام کو مشکل تو بنا دیں گے مگر مشکل کاموں کو آسان طریقے سے سرانجام دینا ان کے بس کی بات نہیں جیسے ایک ڈرامے میں چار پانچ پٹھان ایک گائے ذبح کرنے کیلئے دوسری منزل پر لے جارہے تھے کہ ایک شخص نے پوچھا خان صاحب اسے دوسرے منزل پر کیوں لے جارہے ہو اسے نیچے ہی ذبح کیوں نہیں کرلیتے؟ تو خان صاحب بولے کیسے ذبح کریں چھری تو اوپر پڑا ہے ، کام دیکھو ایک چھٹانک کی چھری نیچے لیکر نہیں آنی تین من کی گائے اوپر لیکر جارہے ہیں ہمارے حاکم آسان کام کومشکل بنادیں گے یا پھر اگر کوئی کام کریں گے بھی تو وہ جس سے عوام کو کوئی فائدہ ہی نہ ہو بڑی خوشیاں منائی گئیں کہ متفقہ طور پر 17 ویں ترمیم کا خاتمہ کر دیا عوام کو بھلا اس سے کیافائدہ ؟ ہاں اگر کرنا ہی ہے تو 17 ویں ترمیم کے بجائے 17 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کرو آئین سے ضیاء الحق کا نام نکالنے، صوبوں کے نام تبدیل کرنے سے غربت اور بیروزگاری کا خاتمہ تو نہیں ہوگا ایک کہاوت ہے کہ ہم نے ایسی بہاریں کیا کرنی جس میں ہمارے جانور گھاس کو ترسیں ،کوئی ایک حقیقی مسئلہ بھی ایسا نہیں جس کیلئے ہمارے سیاستدانوں نے سنجیدہ منصوبہ بندی کی ہو کسی بھی مسئلے کو سلجھایا ہو بلکہ انہوں نے اُلجھے ہوئے کو مزید اُلجھایا ہے عوام کے مسائل حل کرنے کے بجائے انہیں دلاسوں میں ہی رکھا اس کسان کی طرح جس نے ایک شخص سے قرضہ لیا مگر واپس کرنے کا نام نہ لے چکر لگا لگا کر قرضہ دینے والا شخص تنگ آگیا ایک دن اپنے ساتھیوں کو لیکر کسان کے پاس آیا اور غصے میں کہنے لگا میرے پیسے واپس کرتا ہے یا نہیں؟ کسان نے اس سے کہا غصہ کیوں ہوتا ہے بیٹھ میں نے تیرے پیسوں کا بندوبست کر دیا ہے وہ سامنے دیکھ میں نے سڑک کے کنارے بیریوں کے درخت اُ گائے ہیں یہ انشاء االلہ بڑے ہونگے اور کپاس کے سیزن میں اُونٹ جب کپاس کے بورے لیکر اِن کے نیچے سے گزریں گے تو کپاس بیریوں کے درختوں میں ضرور پھنسے گی اور میں پھنسی ہوئی کپاس نکال کر بیچوں گا اور تیرا قرضہ اُتاردوں گاآج اگر ہم غور کریں تو ہمارے حکمران بھی اس کسان کی طرح حسین سپنے اور سبز باغ دکھا کر صرف عوام کو آسروں میں رکھتے چلے آرہے ہیں ان 69 سالوں میں سیاستدانوں نے عوام کے راستوں میں اتنے کانٹے بوئے کہ اب پوری قوم لنگڑا کر چل رہی ہے انہوں نے بنگلہ دیش کو تسلیم کرلیا اسرائیل کو بھی تسلیم کرلیں مگر عوام کے حقوق تسلیم نہیں کریں گے محب وطن شہریو ! عوام کے حقوق لیڈر تسلیم کیا کرتے ہیں یہ لیڈر نہیں بکریاں ہیں اور بکریوں کی نظر ہمیشہ گھاس پر ہوتی ہے حکمرانوں کا آئے دن کشکول اٹھا کر قرض اور امداد کیلئے بیرون ملک جانے سے بھی کافی شرمندگی اٹھانی پڑ رہی ہے ہم تو اب امریکہ اور یورپ کو برا بھی نہیں کہہ سکتے کیونکہ مشہور حدیث ہے کہ " دینے والا ہاتھ لینے والے سے بہتر ہے " اب ٹھنڈے دماغ سے خود فیصلہ کرو کہ لینے والا ہاتھ کن کا ہے اور دینے والا ہاتھ کن کا ، ہمارے ان سیاستدانوں نے علامہ اقبال کے خواب کو ڈراؤنہ خواب بنا کر رکھ دیا اور شاعر مشرق کے شاہینوں کو خودکشیوں پر مجبور کر دیا ایک مزاح نگار لکھتا ہے کہ ہمارے حاکم بھی نرالے ہیں ایٹم بم بنالیا مگر بجلی نہیں بنائی اگر بجلی نہ ہونے پر اندھیرے میں یہ چل جائے تو کون ذمہ دار ہوگا؟ قارئین حضرات ہمارے سیاستدانوں کے کسی اور کے ایجنڈے پر کام کرنے سے پاکستانی عوام غربت کی چکی میں پس کر رہ گئی ہے یہ اپنے سیاسی مقاصد کیلئے انہیں ایندھن کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور آئے دن عوام کو قربانیاں دینے کو کہتے رہتے ہیں دہشت گردی اور غربت کی ماری عوام کے جسم اور زخمی ہوچکے ہیں ان حاکموں کو کون سمجھائے کہ زخمی اور کمزور کی قربانی جائز نہیں ہوتی پاکستان کے سیاستدانوں نے مفاہمت اور برادشت کے بجائے ہمیشہ آپس میں تصادم ، گڑ بڑ ، دست و گریباں اور ٹکراؤ کی سیاست کی یہ درست ہے کہ سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلاف رائے ہوتا ہے اور ایسا ہونا بھی چاہئے لیکن ہمارے ہاں سیاسی محاذ آرائی کی کیفیت ہے جوکسی صورت ملک کیلئے نیک شگون نہیں کبھی کبھی تو ضد میں ہماری سیاسی پارٹیاں اتنی آگے چلی جاتی ہیں کہ اپناہی نقصان کروا بیٹھتی ہیں جیسے کسی لکڑ ہارے کو جنگل سے ایک چراغ ملاگھر آکراسے دھونے کیلئے رگڑا تو جن برآمد ہوا اور کہنے لگا کہ کیا حکم ہے میرے آقا یہ دیکھ کر لکڑہارا بہت خوش ہوا اور فوراً بولا کہ مجھے کار چاہئے جن بولا کہ میری ایک شرط ہے وہ یہ کہ جو تو ایک چیز مانگے گا وہی چیز میں تیرے محلے والوں کو دوعد ددوں گا یہ سن کر لکڑہارے کو غصہ تو بہت آیا کیونکہ محلے والوں سے اکثر اسکی لڑائی رہتی تھی مگر کیا کرتا کہتا ٹھیک ہے جن نے فوراً کار اسے لاکر دے دی باہر نکل کر جودیکھا ہر گھر کے دروازے کے باہر دو ،دوکاریں کھڑیں ہیں تو تھوڑے دن بعد لکڑہارا بولا گرمی بہت ہے مجھے ائرکنڈیشن لاکر دو جن نے فوراً AC لگا دیا شام کو جب وہ گھر سے باہر گیا تو دیکھا ہر گھر میں دو، دو AC لگے ہوئے ہیں یہ دیکھ کر اسے بہت غصہ آیا فوراً جن کو بلایا اس سے کہا یہ کیا میرے لئے ایک AC اور محلے والوں کیلئے دو دو؟ جن نے کہا حضور والا میں نے پہلے ہی عرض کیا تھا جو کام اپنے لئے ایک کراوئے گا تو محلے والوں کے میں دودو کروں گا یہ سن کر لکڑ ہارا بولا اگر تو میری ایک آنکھ پھوڑے گا تو محلے والوں کی دونوں؟ جن نے کہا ایسا ہی کروں گا، لکڑہارا نے کہا تو فوراً میری ایک آنکھ پھوڑ دے، کچھ ایسی ہی صورتحال ہمارے سیاستدانوں کی ہے کہ کبھی کبھی مخالف سیاستدانوں کو نقصان دینے کیلئے اس لکڑہارے کی طرح اپنی ہی آنکھ گنوا بیٹھتے ہیں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کبھی ہم آہنگی نہیں رہی ہمیشہ ایک دوسرے کی مخالفت کرنی ہے جیسے مولوی سے ایک شخص نے پوچھا ہمارے فرقے میں وضو کتنے لوٹوں سے کرنی ہے مولوی بولا مخالف فرقے کے لوگ کتنے لوٹوں سے کرتے ہیں؟ تو وہ شخص بولا ایک لوٹے سے تو مولوی نے جواب دیا تو پھر تم دو لوٹوں سے کرو، قوم کے ان رہنماؤں کو کون سمجھائے کہ تمہارے اس عمل سے عوام کو کتنا نقصان اٹھانا پڑرہا ہے کسی دانشور نے کیا خوب کہاہے کہ ڈاکو صرف وہی نہیں جو پستول دکھا کر آپ کو آپ کی جمع پونجی سے محروم کردے بلکہ ڈاکو وہ بھی ہیں جو اپنا عہدہ اور منصب دکھا کر قوم کو لوٹیں۔

0 comments:

Post a Comment