--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
Home » » لطیفے اور کہاوتیں (نیم مزاحیہ کالم ) شبیر شاکر انبالوی

لطیفے اور کہاوتیں (نیم مزاحیہ کالم ) شبیر شاکر انبالوی

Written By Munawar Hussain on Monday, 31 July 2017 | July 31, 2017

کچھ عرصہ پہلے بچے جمعرات کی رات کو ایک گول دائرے میں نظریں جھکا کر بیٹھ جاتے کپڑے کا بنا ہوا ہنڑ لیکر ایک لڑکا دائرے میں بیٹھے ہوئے لڑکوں کے گرد گھومتا اور آواز لگاتا کہ " کوکلا چھپاکی جمعرات آئی ہے جیڑا آگے پیچھے دیکھے اودی شامت آئی اے " رات کو اب گلیوں میںیہ کھیل نظر نہیں آتا ہاں البتہ حکمران جاری رکھے ہوئے ہیں عوام کو دائرے میں بٹھا کر گرج دار آواز میں کہتے ہیں " کوکلا چھپاکی جمعرات آئی ہے جیڑا آگے پیچھے دیکھے اودی شامت آئی اے " ایک تو عوام کو مارتے ہیں دوسرا رونے بھی نہیں دیتے احتجاج کرنے پر نام نہاد دانشور ٹی وی چینلوں پر آکر طعنے دیتے ہیں کہ تم نے ہی تو ووٹ دئیے تھے تمہارے دئیے گئے ووٹوں سے تو حکومت بنی ہے حالانکہ پاکستان میں آج تک الیکشن ہوئے ہی نہیں سلیکشن ہوتی ہے جسے اقتدار دینا ہوتا ہے اسی کیلئے ماحول بنا دیا جاتا ہے ہمارے منصفانہ، آزادنہ اور غیر جانبردانہ انتخابات کے تو بہت مرتبہ پول کھل چکے ہیں ضیاء کے دور میں غیر جماعتی انتخابات ہوئے تو الیکشن کو شفاف بنانے کیلئے امریکہ نے ٹیم بھیجی کہ وہ انتخابات پر نظر رکھے اور رپورٹ پیش کرے انتخابات کے بعد ٹیم کے سربراہ کی پولنگ اسٹیشن پر کسی جیب کترے نے جیب کاصفایا کردیا اس کا علم ٹیم کے سربراہ کو ہوٹل میں جاکر ہوا اس واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے سینئر سیاستدان نواب نصراللہ خان نے کہا کہ پاکستان کے الیکشن میں ہونے والی دھاندلی کا اس شخص کو کیا پتہ چلے گا جسے پولنگ اسٹیشن پر اپنے پرس نکلنے کا پتہ نہ چل سکا پاکستان میں الیکشن برائے نام ہوتے ہیں اقتدار کسے دینا ہے یہ پہلے سے طے ہوا ہوتا ہے ہمارے الیکشنوں پر تو بہت سے لطیفے اور کہاوتیں بنی ہوئی ہیں ایک تو یہ کہ ایک غیر ملکی کانفرنس میں چین کا وزیر خارجہ اور پاکستانی وزیر خارجہ ملے دونوں پریشان تھے پاکستان کے وزیر خارجہ نے پوچھا کیا بات ہے تم پریشان ہو ؟ وزیر خارجہ نے جواب دیا کہ میرے دفتر سے آئندہ بنانے والی سائنسی ایجادات کے دستاویزات چوری ہوگئے ہیں میں اس لئے پریشان ہوں، چینی وزیر خارجہ نے پاکستانی وزیر خارجہ سے پوچھا تم کیوں پریشان ہو؟ تو اس نے جواب دیا پاکستان میں آئندہ ہونیو الے پانچ الیکشنوں کا بنایا گیا رزلٹ میرے دفتر میں رکھا گیا تھا جو چوری ہو گیا ہے ،کہا جاتا ہے کہ عوام پر ظلم کرنے والی حکومتوں کو عوام خود منتخب کرتے ہیں چلو مانا کہ عوام کی طاقت سے اقتدار میں آئے ہوئے ہیں تو انہیں پانچ سال سے پہلے ہی گھرکون بھیج دیتا ہے؟ اس کے علاوہ گیارہ سال اقتدار میں رہنے والے الیکشنوں کے ذریعے کب آئے ہیں؟ انہیں اقتدار کیسے ملتا ہے اور کون دیتا ہے؟ یہ بات ان لوگوں کو آسانی سے سمجھ میں آجائے گی جنہوں نے تیلی کو کولہو سے سرسوں کا تیل نکالتے دیکھا ہو، ہوتا ایسا ہے کہ تیلی لکڑی کے کولہو کے آگے بیل باندھ دیتا ہے بیل چاروں طرف گھومنے سے کولہو چلتا ہے گلی کے بچوں سے کولہو چھوٹے موٹے کام لیتا ہے کوئی حقہ گرم کرتا ہے کوئی پانی لیکر آتا ہے تو کوئی گھر کی سبزی غیرہ، کام کرنے کی صورت میں تیلی ایک بچے کو کولہو کے بیل پر بٹھا کر چکر دلواتا ہے انتظارکرنے والادوسرا بچہ کہتا ہے چاچا تیری سبزی میں لایا تھا مجھے بھی بٹھا؟ تیلی کہتا تیری باری اس کے بعد، اس طرح تھوڑی دیر کے بعداس بچے کو چکر دلواتا تو تیسرا بچہ بولتا تیلی چاچا میں نے تیرا حقہ تازہ کیا تھاتو وہ کہتا اس کے بعد تیری باری، اس طرح تیلی اپنے کام کرنے والے بچوں کو بار بار بیل پر بٹھا کر چکر دلاتا رہتا ہے ، زمین سے نکلنے والے 90فیصد تیل پر قابض دنیا کے سب سے بڑے تیلی امریکہ باری باری پاکستان کو کولہو کا بیل سمجھ کر اپنے مفادات کیلئے کام کرنے والوں کو بٹھاتا اور اتارتا رہتا ہے کئی ایک وزیراعظم تو باقاعدہ باہر سے امپورٹ کئے گئے وہ پاکستانی شہریت بھی نہیں رکھتے تھے انکے شناختی کارڈ یہاں آکر بنائے گئے ہمارے ہاں اعتراض کیا جاتا ہے کہ نوکریاں سفارش اور بڑے لوگوں کے رقعوں پر دی جاتی ہیں خدا کے بندوں جہاں وزیراعظمیٰ رقعوں پر ملے بھلا وہاں نوکریاں کیا حیثیت رکھتی ہیں؟ ان حکمرانوں سے بھلائی کی توقع رکھنا فضول ہے کیونکہ یہ اقتدار دینے والوں کے کہنے پر ہمیشہ عوام دشمن پالیسیاں بناتے ہیں عوام احتجاج پرشرمندہ ہونے کے بجائے بڑی دیدہ دلیری سے جواب دیتے ہیں کہ یہ پالیسیاں ملک و قوم کے مفاد میں بنائی جا رہی ہیں،ان کی مثال تو اس دانتوں کے ڈاکٹر جیسی ہے جس کے پاس ایک مریض آیا او رکہنے لگا کہ ڈاکٹر صاحب میرے اوپر والے دانت کو کیڑا کھا رہا ہے لہذا اسے نکال دو ڈاکٹر نے جلدی میں اوپر والے دانت کے بجائے نیچے والا دانت نکال دیا مریض نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر صاحب کیڑا تو اوپر والے دانت کو کھا رہا تھا آپ نے نیچے والا دانت نکال دیا ہمارے حاکموں کی طرح ڈاکٹر نے شرمندہ ہونے کے بجائے ارشاد فرمایا کہ بیوقوف کیڑا نیچے والے دانت پر کھڑا ہو کر تو اوپر والے دانت کو کھاتا تھا اس لئے میں نے نیچے والا دانت نکال دیا، ہمارے حکمران عوام کی فلاح و بہبود کیلئے کوئی منصوبے تو نہیں بناتے ہاں البتہ اس دانتوں کے ڈاکٹر کی طرح باتیں بنانے کے بڑے ماہر ہیں ان کے بیانات اور باتوں سے ایسالگتا ہے جیسے انہوں نے باتیں بنانے میں پی ایچ ڈی کر رکھی ہو ان کی چالاکی و ہوشیاری والی باتیں سن کر گاؤں کا مراثی یادآجاتا ہے جوپیسے مانگنے کیلئے چوہدری کے پاس گیا اور کچھ پیسوں کا مطالبہ کیا چوہدری نے مراثی سے کہا کہ تو اپنے آپ کو بڑا ہوشیار سمجھتا ہے میں تجھے پیسے تب دوں گا جب تو اس سوال کا جواب دے کہ میرے ہاتھوں کی ہتھیلی پر بال کیوں نہیں؟ تو مراثی نے جواب دیا کہ چوہدری صاحب آپ سخی ہیں مجھے اکثر پیسے دیتے رہتے ہیں پیسے دیتے دیتے گھس گئے، مگرتیری ہتھیلی پر بال کیو ں نہیں؟ مراثی ہمارے حکمرانوں کی طرح باتیں بنانے میں ہوشیار تھا فوراً بولا میری ہتھیلی کے بال پیسے لیتے لیتے گِھس گئے پھر چوہدری نے کہا باقی لوگوں کی ہتھیلی پر بال کیوں نہیں؟ تو مراثی نے جواب دیا کہ آپ مجھے پیسے دیتے ہیں اور میں لے لیتا ہوں یہ دیکھ کر لوگ افسوس میں ہاتھ ملتے ہیں ،ہاتھ ملتے ملتے انکی ہتھیلی کے بال گھس گئے ،سوائے باتیں بنانے کے گذشتہ اور موجودہ حکومتوں نے پاکستانی قوم کو عدم استحکام کے علاوہ کچھ نہیں دیا اگر کبھی بے تکی نوازشیں اور رلیف دیا بھی تو وہ کسی کام کا نہیں جیسے رمضان شریف میں ایک کونسلرمولوی سے کہنے لگا کہ آج سحری کا اعلان میں کروں گا کونسلر نے سحری کا اعلان کیا اور آخر میں کہنے لگاحضرات سحری کا ٹائم ختم ہوچکا ہے چلو پانچ منٹ میں اپنے طرف سے دیتا ہوں کھالو پی لو، حکمرانوں کی مسخروں والی حرکتوں نے پاکستانی قوم کو ایسا لاوارث بچہ بنا کر رکھ دیا یے جسکے سر پر جو چاہیے تھپڑمار کر چلا جائے کسی دانشور نے کیا خوب کہا ہے کہ اگر کوؤں سے رہنمائی لوگے تو مردہ جانوروں کے پاس پہنچو گے۔

0 comments:

Post a Comment