--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
Home » » چند خاندان نیم مزاحیہ کالم شبیر شاکر انبالوی

چند خاندان نیم مزاحیہ کالم شبیر شاکر انبالوی

Written By MT News Channel on Monday, 31 July 2017 | July 31, 2017

وطن عزیز کو وجود میں آئے نصف صدی سے زائد کا عرصہ ہو چکا ہے آپکو ترقی کا گراف زندگی کے کسی بھی شعبے میں دکھائی نہیں دے گا عوام ہر طرح کے مسائل میں پھنسی ہوئی ہے گذشتہ 67 سالوں میں حکمرانوں نے کوئی بھی ایسا کارنامہ انجام نہیں دیا جس پر پاکستانی فخر کر سکیں اتنے عرصے میں ہر قسم کے لیڈران کو اس امید پر منتخب کیا کہ شاید ہماری قسمت بدلے گی مگر انہوں نے عوام کی قسمت بدلنے کے بجائے ملک کو ہی دولخت کر کے بین الاقوامی طور پر ملک کا امیج خراب کیا ایک دور میں مسرت نذیر کا گانا ’’میرا لونگ گواچا‘‘ بہت مشہورہوا تھا ہر طرف اس کے چرچے تھے کسی محفل میں مسرت نذیر نے اپنا یہی مشہور گانا ’’میرا لونگ گواچا‘‘ گایا تو محفل میں موجود مشہور اداکارلالہ سدھیرنے کہا میڈم تجھے اپنے لونگ کی پڑی ہے یہاں آدھا ملک (بنگلہ دیش )گواچ گیا آئین اور نظر یہ پاکستان گم ہو گیا پھر بھی ہمارے ذمہ دار افراد پریشان نہیں بلکہ مزے سے بیٹھے ہیں ہمارے حکمرانوں کی سوچ قومی مفادسے عاری ہے ملک میں مارشل لاء ہویاجمہوریت مگر حکمرانی ملک کے چند خاندانوں کے پاس ہی رہی حکومت پیپلزپارٹی کی ہو یا مسلم لیگ کی یا کوئی مخلوط حکومت، اقتدار کے مراکز پر ہمیشہ یہی مراعات یافتہ طبقہ مسلط رہا ہے قومی وسائل اور اسکے سر چشموں پر ہر دور میں ان کا ہی غاصبانہ قبضہ رہا غلط سسٹم ہونے کی بناء پر قابل ، ذہین اور ملک و قوم کا سچادرد رکھنے والے غریب لوگ انتہائی مہنگے انتخابات میں حصہ لینے کا سوچ بھی نہیں سکتے جیسے ایک مراثی کالڑکاپوچھنے لگا ابا اگر گاؤں کا چوہدری مر جائے تو گاؤں کا چوہدری کو ن بنے گا؟ مراثی نے کہا کے اسکا لڑکا پھر اس نے کہا ابا اگر وہ بھی مر جائے تو پھر کسے چوہدری بنائیں گے ؟مراثی نے جواب دیا اُس کے بیٹے کو اگر وہ بھی مر جائے تو ؟مراثی نے غصے میں کہا کہ بیٹا ساراگاؤں بھی مرجائے تو بھی ہمیں چوہدری کسی نے نہیں بنانا ہمارے پاکستانی حکمران یہ بھول چکے ہیں کہ حکمرانوں کا کام عوام کی خدمت ہے مگر وہ خود عیش و عشرت کی زندگی گزار رہے ہیں اور غریب عوام کا کوئی پرسانِ حال نہیں،مہنگائی نے عوام کی کمر توڑدی ہے جرائم کا گراف بڑھ رہا ہے،سرکاری محکمے کرپشن اور بدعنوانیوں کے گڑھ بنے ہوئے ہیں معاشی بد حالی نے دووقت کی روٹی بھی نا ممکن بنا دی ہے اسکے علاوہ بھی عوام کو ڈھیروں مسائل کا سامنا ہے پاکستانی عوام کے مسائل روز روشن کی طرح عیاں ہیں غیر ملکی میڈیا تک بھی نشاندہی کرتی ہے اسکے باوجود وزراء ،مشیر کھلی کچہری لگا کر عوام سے ان کے مسائل پوچھتے ہیں بتانے کے باوجود مسائل حل نہیں کرتے مگر پھر بھی کھلی کچہری لگانے سے باز نہیں آتے جیسے ایک بچہ اپنے والد سے پوچھنے لگا کہ قائداعظم کہاں پیدا ہوئے؟باپ نے جواب دیا بیٹا پتا نہیں،بچے نے پھر سوال کیا کہ ابو دریائے سندھ کی لمبائی کتنی ہے؟ باپ نے پھر جواب دیا مرے علم میں نہیں،بچے نے تیسراسوال کیا ابو ریڈیو کس نے ایجاد کیا؟ باپ نے کہا مجھے نہیں معلوم بچہ ایک مرتبہ پھر کہنے لگا کہ ابو ابو مگر کہتے کہتے رک گیا اس کا باپ فوراً بولا بیٹے رک کیوں گئے پوچھو پوچھو جب تک پوچھو گے نہیں تمہارے علم میں اضافہ کیسے ہو گا عوام کی جہاں یہ خواہش ہے کہ قومی خزانہ اور ورلڈبینک سے آنے والی امدادکو لوٹنے والوں کے گلے میں احتساب کا پھندا ڈالا جائے وہیں انکا دیر ینہ خواب یہ بھی ہے کہ بالادست طبقوں اور انگریزوں کا وضع کردہ نظام بھی تبدیل کیا جائے یہاں المیہ یہ رہا ہے کہ عوام کے استحصال کے لیے تو ایک انتہائی منظم اور سفاک نظام موجود ہے مگر عوام کو ریلیف دینے اور غیر ملکی امداد کو صحیح جگہ استعمال کرنے کا کوئی منصبوط سسٹم ابھی تک وضع نہیں کیاجا سکا IMF یا ورلڈ بینک پاکستان کو جو فنڈ غریب عوام کی فلاح وبہبود کے لیے دیتی ہے تو اسکے ساتھ ایک ٹیم بھی روانہ کرتی ہے کہ یہ فنڈز غلط استعمال نہ ہونے دیں یہ ٹیم نامور صحافیوں ،معاشیات کے ماہروں پر مشتمل ہوتی ہے انکا کام ہوتا ہے کہ جس مقصدکے لیے فنڈ دیا گیا ہے اسی کے لیے خرچ ہو ،شاباش ہے ہمارے حکمرانوں کو کہ اس ٹیم کے ہوتے ہوئے ورلڈ بینک کی جاری کردہ امداد کا بہت بڑاحصہ ہڑپ کر جاتے ہیں اگر چیک کرنے والی ٹیم نہ آئے تو یہ فنڈز کا کیا حال کریں اسی پر ایک بات یاد آئی وہ یہ کہ ایک مسافر کسی گاؤں آیا اور دیہاتی کو کہا کہ میں مسافر ہوں مجھے کھانا دو یہ سن کر مہمان نواز دیہاتی نے گھر میں پکا سارا سالن اور بہت سی روٹیاں لا کر اس مسافر کے سامنے رکھ دیں دیکھتے ہی دیکھتے مسافر تمام روٹیاں اور سالن کھاگیاکھانا کھانے کے بعددیہاتی مسافر سے حال احوال کرنے لگا کہ تو کدھر سے آیاہے اور کہاں جا رہا ہے یہ سن کر مسافر بولا میں ساتھ والے گاؤں کا ہوں میرا کافی عرصہ سے ہاضمہ صحیح نہیں ہے بھوک کم لگتی ہے اس لیے اگلے گاؤں میں ایک حکیم سے دوا لینے جا رہا ہوں یہ سن کر دیہاتی پریشان ہو گیا کہ ہاضمہ خراب ہونے پر گھر کی ساری روٹیاں کھا گیا علاج ہونے کے بعدکیا حال کرے گا یہ سوچ کر دیہاتی نے مسافر سے کہا تجھے راستے کا صحیح علم نہیں اگلے گاؤں جانے کے لیے تو نے یہ لمبا راستہ اختیار کیا حالانکہ گاؤں سے باہر والا راستہ شارٹ کٹ ہے لہذا واپسی اسی راستے سے جانا ہمارے اہل اقتدار کا ہاضمہ زبردست ہے عربوں کھربوں روپے ہڑپ کر جاتے ہیں ،لکڑہضم،پتھر ہضم اگر ہضم نہیں ہوتا تو وہ سچ ہے تھوڑے سے سچ سے ہی انہیں فوڈ پوائزن ہو جاتا ہے یاد ہو گاپاکستان بنتے ہی قائداعظم نے انہی حضرات کے لیے تو کہا تھا کہ’’افسوس میری جیب کے تمام سکے کھوٹے نکلے‘‘ دوستو کھوٹے سکوں کی مصیبت یہ ہے کہ ایک تو ان سے چیز نہیں ملتی دوسراجیب کا وزن بڑھاتے ہیں پہلے زمانے والی کہانی میں علی بابا چالیس چور تھے مگر اب علی بابا سارے چور ہیں پہلے وقتوں کی کہاوت تھی کہ جس کی لاٹھی اسکی بھینس مگر اب جس کی لاٹھی اسکا پورا بھنسوں کا باڑہ ہے،حکمرانوں کا اثر معاشرے پر پڑتا ہے اور معاشرے کا اثر افراد پر پڑتا ہے جب فلم یا ڈرامے کا اثر انسان پر اتنا پڑتا ہے کہ وہ اگر دلیری یا بہادری والی فلم دیکھتا ہے تو باہر نکل کر بہادر اور اکڑ کر چلنے لگتا ہے غمگین اور اداس فلم دیکھتا ہے تو اداس ہو جاتا ہے صرف رمضان میں نیکی والا ماحول ہوتا ہے تو اکثر لوگ نماز پڑھنے لگ جاتے ہیں اگر حکمران صالح ہوں اور معاشرہ عدل اور نیکی پر قائم ہو جائے تو عوام اس کے اثر کی وجہ سے نیک اور ایماندا رہو جائیں گے مگر ہمارے حکمران اقتدارکے لیے رسہ کشہ ،منفی طرزِ حکومت اور پرتشدد کا رروائیوں میں مصروف ہیں جو عوام پر براہ راست اثر انداز ہو رہی ہیں ظالمانہ نظام حکومت کی بناء پر عوام نئے ڈگر پر چلنے پر مجبور ہے عوام میں بھی غصہ بڑھ رہا ہے اور انتقامی ردعمل میں بھی اضافہ ہو رہاہے کسی شخص کی ہزار اچھا ئیاں نظر انداز کر کے ایک برائی کی آڑ لیکر انتقام لینے کے در پر ہو جاتے ہیں بالکل اس مکھی کی طرح جو انسان کے خوبصورت چہرے کو چھوڑ کر جسم پر لگے گندے زخم پر بیٹھتی ہے حالانکہ اصو ل تویہ ہے کہ نیکی کا بدلہ بڑھا کر دیا جانا چاہیے اور برائی کو نظر انداز کر دینا چاہیے مگر ہمارے ہاں نیکی کو نظر انداز کیا جاتا ہے اور برائی کا بڑھا کر دیا جاتا ہے پرانے وقتوں کا ایک نہایت ہی سنجیدہ سبق آموزواقع مشہور ہے کہ دو دوست سمندر میں نہا رہے تھے اچانک کسی بات پر ایک دوست نے دوسرے کو تھپڑ دے مارا تھپڑ کھانے والے نے یہ بات انگلی سے ساحل کی ریت پر لکھ دی کہ مجھے تھپڑ مارا تھوڑی دیر بعد تھپڑ کھانے والا شخص ڈوبنے لگا تو فوراً تھپڑ مارنے والے نے اپنی جان پر کھیل کر اسے بچا لیا یہ بات اس نے ساحل پر بڑے پتھر پر کھرچ کھرچ کر لکھی کہ مجھے ڈوبنے سے بچایا یہ منظر دیکھنے والے کسی شخص نے قریب آکر پوچھا کہ تجھے تھپڑ مارا تو تو نے ریت پر لکھا اور جب تجھے ڈوبنے سے بچایاتو تو نے یہ بات پتھر پر لکھی یہ سن کر اس نے جواب دیا تھپڑ والی بات انتقامی تھی اس لیے میں نے انگلی سے ریت پر لکھا کہ ساحل کی ہوا اسے مٹا دے او رڈبتے کو بچانااحسان والا عمل ہے یہ میں نے پتھر پر لکھا تا کہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے لکھا رہے اور میں اپنے دوست کا احسان اتارنے کی کوشش کر تا رہوں۔

0 comments:

Post a Comment